
اپریل 2026،10 (کامران راجہ):روس کی وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر ایک اہم بیان جاری کیا ہے، جس میں خلیج فارس میں امن و استحکام کے لیے ایک ممکنہ موقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق، خطے میں پیچیدہ صورتحال کے حل کے لیے ایک “موقع کی کھڑکی” کھل رہی ہے۔ بیشتر ممالک ان کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں اور خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں، جو اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں منعقد ہونے جا رہے ہیں۔
تاہم، روسی وزارتِ خارجہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ بیان میں خاص طور پر ان الزامات کو مسترد کیا گیا جن میں ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 28 فروری تک یہ اہم آبی گزرگاہ بغیر کسی خلل کے کام کرتی رہی۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس مرحلے پر بنیادی ہدف خطے میں جاری تباہ کن تنازعہ کی جڑوں کو ختم کرنا ہے، جس کے لیے اس جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے جسے روس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے شروع کیا۔ اس تنازعے کے اثرات میں جزیرہ نمائے عرب کے ممالک کو پہنچنے والا نقصان، لبنان-اسرائیل سرحد پر کشیدگی، اور لبنان پر جاری میزائل و فضائی حملے شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خطے کے ممالک کے درمیان اختلافات کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، اور اس سلسلے میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں، روس نے پاکستان میں ہونے والے آئندہ مذاکرات کے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی اقدام سے گریز کریں جو اس نازک موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
آخر میں، روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سکیورٹی فریم ورک کے قیام کی اپنی دیرینہ تجویز کو بھی دہرایا، جس کے تحت خطے کے تمام ساحلی ممالک—بشمول عرب ریاستیں اور ایران—باہمی مکالمے کے ذریعے، بیرونی شراکت داروں کی معاونت سے، ایک منصفانہ اور پائیدار توازنِ مفادات قائم کریں۔