
کوناکری، 24 اگست 2026 (کامران راجہ): گنی کے دارالحکومت کوناکری میں شدید بارشوں کے بعد شہر کی سب سے بڑی لینڈ فل سائٹ پر کچرے کا ایک بڑا ڈھیر منہدم ہونے سے کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوگئے، حکام نے تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ اتوار کی صبح دارالسلام لینڈ فل سائٹ پر پیش آیا، جہاں رات تقریباً 2 بجے سے شدید بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔ حکام کے مطابق بارش کا پانی کچرے کے بڑے ڈھیر پر بہنے سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور قریبی کچی آبادیوں کے متعدد گھر ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائی شروع کردی گئی تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کیا جاسکے اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالا جا سکے۔ حکام کے مطابق چھ افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ متعدد گھر تباہ ہوگئے۔ ملٹری انجینئرنگ بٹالین کے سینیٹیشن افسر لیفٹیننٹ کرنل بالڈے مامادو بائیلو کے مطابق شہر کی یہ کھلی کچرا گاہ اتوار کو بند کی جانی تھی۔ حکام نے لینڈ فل کے اطراف رہائش پذیر افراد کو پہلے ہی علاقہ خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے تھے، جس کے بعد کئی خاندان وہاں سے منتقل ہوگئے تھے، تاہم حادثے کے وقت متعدد افراد اب بھی علاقے میں موجود تھے۔ علاقائی انتظامیہ اور ڈی سینٹرلائزیشن کی وزیر دینابو توری نے کہا کہ حکومت لینڈ فل کے قریب رہ جانے والے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کو یقینی بنائے گی۔ یہ المناک حادثہ شدید بارشوں کے دوران بڑے کچرا ڈمپنگ مقامات کے قریب رہنے والی آبادیوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔گنی قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور یہاں دنیا کے سب سے بڑے معلوم باکسائٹ ذخائر موجود ہیں، جبکہ ملک میں لوہے، سونے اور ہیروں کے بھی نمایاں ذخائر ہیں۔ تاہم عالمی بینک کے مطابق گنی کی 43.7 فیصد آبادی قومی سطح پر مقررہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔