
لاہور 16 اپریل2026(کامران راجہ):پنجاب میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑے انقلاب کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں حکومت پنجاب اور پاکستان ریلوے کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے معاہدے پر دستخط کیے۔
اس منصوبے کے تحت لاہور سے راولپنڈی کے درمیان پاکستان کی پہلی فاسٹ ٹرین چلائی جائے گی، جو تقریباً 280 کلومیٹر کا فاصلہ سوا دو گھنٹے میں طے کرے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب کے 20 ریجنز میں 8 لوکل روٹس پر مجموعی طور پر 1415 کلومیٹر طویل نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔
منصوبے میں جدید ترین ٹرینیں، ڈی ایم یو سروسز اور نئے ریلوے انجن شامل ہوں گے۔ مختلف روٹس میں شاہدرہ تا نارووال، نارووال تا سیالکوٹ، رائیونڈ تا لودھراں، شیخوپورہ تا شورکوٹ، لالہ موسیٰ تا سرگودھا، فیصل آباد تا شاہین آباد اور کوٹ ادو تا کشمور بین الصوبائی روٹ شامل ہیں۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اس منصوبے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً 9 کروڑ افراد مستفید ہوں گے اور پنجاب کے عوام کو یورپی معیار کی سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریلوے حادثات کی روک تھام کے لیے جدید خودکار نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جبکہ ریلوے اسٹیشنز کی بیوٹیفکیشن، عالمی معیار کی پارکنگ، اور ٹریک کے اطراف گرین بیلٹس بھی بنائی جائیں گی۔ شاہدرہ سے رائیونڈ تک 40 کلومیٹر طویل گرین پارکس اور چار لاکھ سے زائد پودے لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی ہو رہی ہے، اور یہ منصوبہ صوبے کے عوام کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔