Tuesday, September 15

سینیٹ کمیٹی کی پی آئی ایم ایس سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

Senate body seeks action against PIMS tragedy culprits

اسلام آباد، 15 ستمبر 2026 (نوشین): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں بچوں کی المناک اموات کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کو پی آئی ایم ایس سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ اور واقعے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی ارکان نے زور دیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور احتساب کو صرف محکمانہ کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور رپورٹ میں سامنے آنے والی ادارہ جاتی خامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔ کمیٹی نے پی آئی ایم ایس میں ہنگامی طبی امداد کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، ڈاکٹروں، نرسوں، ادویات اور ضروری طبی آلات کی مناسب دستیابی یقینی بنانے اور شدید بیمار بچوں کے فوری علاج و منتقلی کے لیے واضح طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے ہسپتال انتظامیہ میں مؤثر نگرانی اور احتساب کے نظام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بالخصوص ایمرجنسی اور شعبہ اطفال میں تاخیر، غفلت یا باہمی رابطے کے فقدان کے باعث مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ اجلاس میں 20 اگست 2026 کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے متعلق کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو مائیکرو بایولوجی، بایوٹیکنالوجی اور بایوکیمسٹری کے ڈگری ہولڈرز کی جانب سے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل ایکٹ 2022 کے تحت عدم شمولیت یا عدم تسلیم کیے جانے سے متعلق شکایات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے ان ڈگری ہولڈرز کی رجسٹریشن، پیشہ ورانہ شناخت اور پریکٹس کے لیے اہلیت سے متعلق قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک اور ان کے مسائل کے حل کے لیے زیر غور اقدامات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے اور ڈگری ہولڈرز کے جائز تحفظات کو مناسب انداز میں دور کیا جائے۔