Thursday, October 15

حکومت کا دعویٰ، گورنر راج سے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بہتری کی امیدیں بڑھ گئیں

Government Says Governor’s Rule Has Raised Hopes of Improved Security in KP

اسلام آباد، 13 اکتوبر 2026 (نوشین): وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے گورنر راج کے نفاذ کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم مربوط اقدامات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور امید ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی افغان عبوری انتظامیہ کے حوالے سے پالیسی مختلف ہے اور سوال اٹھایا کہ ایک ہی ملک میں دہشت گردی کے خلاف دو مختلف پالیسیاں کیسے ہوسکتی ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے میں حکومتی نظام مفلوج ہوچکا ہے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت تقریباً 800 ارب روپے موصول ہوئے، تاہم سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مؤثر انداز میں کیوں استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے، سیف سٹی نگرانی کے نظام، انتہا پسندی کے خلاف مؤثر بیانیے، فرانزک لیبارٹریوں کے قیام اور پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ کوہاٹ میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے اسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کی اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے گھروں پر بھی گئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام مشکلات کے باوجود دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے دورانیے کے بارے میں کوئی حتمی مدت نہیں بتائی جاسکتی، کیونکہ دونوں اقدامات کی مدت مختلف ہے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق ان میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ وزیر قانون نے آئین کو ریاستی نظام کی بنیادی دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے اور اس جنگ میں قوم نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے وفاقی حکومت کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بعد ازاں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8 ہزار 600 ہوگئی، جو لگ بھگ 200 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اہم وجہ قرار دیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت اور اندرونی سکیورٹی برقرار رکھنے میں کردار ادا کررہی ہے، جبکہ ملکی سرحدوں کا دفاع فوج کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا اور کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اختیارات آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرنے چاہییں۔