
نیویارک، 19 ستمبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے باب المندب آبنائے میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں اور بحری عملے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور بحری آمدورفت کی آزادی، تجارتی جہاز رانی اور سمندری عملے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بحرین کے مستقل مشن کے زیر اہتمام سلامتی کونسل کے اریا فارمولا اجلاس ’’محفوظ سمندر، مشترکہ سلامتی: بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں بحری آمدورفت کی آزادی کا تحفظ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ثابت کیا ہے کہ سمندری بحران عالمی امن، استحکام، توانائی اور غذائی تحفظ پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان باب المندب کو تجارتی جہازوں اور معصوم بحری عملے کو نشانہ بنا کر عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثی حملے سمندری سلامتی کو شدید نقصان پہنچاتے اور خطے کے ممالک کے امن و ترقی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے حوثی حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کے سمندری سلامتی، علاقائی امن اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے تجارتی جہازوں پر حملوں اور آمدورفت میں رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی میں فوری کمی، جہازوں اور عملے کے تحفظ اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت کا ایک اہم راستہ ہے اور یہاں رکاوٹوں کے عالمی توانائی اور کھادوں کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ بحر ہند کے ساحلی ملک اور سمندری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریق کی حیثیت سے پاکستان سمندری سلامتی اور تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی بحری جہاز رانی کو تنازعات اور کشیدگی کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے عالمی تجارت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ رہنا چاہیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی، جو جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر منتج ہوئیں۔ انہوں نے سفارتی رابطوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد تمام زیر التوا معاملات کے مذاکراتی حل اور سمندر و خشکی پر جلد معمول کی صورتحال کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا بھر کے امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر سمندری امن و سلامتی کے فروغ اور تجارتی جہازوں و بحری جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔