
نیویارک، 19 ستمبر 2026 (نوشین): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت واشنگٹن کو گرین لینڈ کی سکیورٹی اور دیگر اسٹریٹجک ضروریات پر ’’مستقل کنٹرول‘‘ حاصل ہوگا، جبکہ روس اور چین کو علاقے میں فوجی اڈے قائم کرنے یا حساس سرمایہ کاری سے روکا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے تحت کوئی بھی امریکی مخالف گرین لینڈ میں اڈہ قائم، فوجی موجودگی یا حساس سرمایہ کاری واشنگٹن کی تحریری منظوری کے بغیر نہیں کر سکے گا، جبکہ امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں فوری اضافہ شروع کرے گا۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر معاہدے پر دستخط کریں گے، تاہم معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں اور ڈنمارک کا مؤقف ہے کہ اس کی خودمختاری برقرار رہے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ معاہدہ روس اور چین کو گرین لینڈ میں اڈے قائم کرنے، فوجی دستے بھیجنے یا حساس شعبوں میں سرمایہ کاری سے روکے گا۔ گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا کہ معاہدہ علاقے کی سکیورٹی کو مضبوط کرے گا، جبکہ میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ وہ ایسے معاہدے کے امکانات پر خوش ہیں جو گرین لینڈ، ڈنمارک، امریکا، نیٹو اور یورپ کے لیے مفید ہوگا۔ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ اسٹریٹجک وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول ضروری ہے اور انہوں نے آرکٹک میں روس اور چین کی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن شمالی گرین لینڈ میں موجود پٹوفک فوجی اڈے کے علاوہ جنوبی گرین لینڈ میں مزید 3 فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔ 1951 کا دفاعی معاہدہ، جس میں 2004 میں ترمیم کی گئی، امریکا کو ڈنمارک اور گرین لینڈ کو پیشگی اطلاع دے کر جزیرے پر فوجی دستوں اور تنصیبات میں اضافہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ گرین لینڈ کے معاملے پر پہلے امریکا، ڈنمارک، یورپی یونین اور نیٹو کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، تاہم سفارتی رابطوں میں اضافے اور آرکٹک کی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے نیٹو کے نئے مشن کے آغاز کے بعد صورتحال میں کچھ کمی آئی ہے۔