
چارسدہ، 28 اگست 2026 (کامران راجہ): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ محسن نقوی نے جمعہ کو شبقدر، چارسدہ میں فیڈرل کانسٹیبلری ٹریننگ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اینٹی رائٹ ونگ کی خصوصی تربیتی مشقوں کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ نے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جدید تربیت اور آپریشنل تیاری کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے ہجوم پر قابو پانے، حساس مقامات کے تحفظ، پرتشدد صورتحال سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق عملی مشقیں بھی دیکھیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور قانون میں احتجاج کے لیے طریقہ کار واضح ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد، توڑ پھوڑ، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ملک بھر میں سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ محسن نقوی نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ مکمل لگن کے ساتھ تربیت حاصل کریں اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں کی حفاظت اور فیلڈ میں آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے جدید حفاظتی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تمام اہلکاروں کو گیس ماسک فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیر داخلہ نے ایف سی ہیڈکوارٹرز میں کھیلوں کی سہولیات بہتر بنانے اور بین الاقوامی معیار کا سوئمنگ پول تعمیر کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بیرکس کا دورہ کرکے اہلکاروں کے مسائل بھی دریافت کیے۔وزیر داخلہ نے ایف سی ہیڈکوارٹرز کے تمام واش رومز کی ازسرنو تعمیر کی ہدایت کی۔ انہوں نے اپنے گزشتہ دورے کے دوران اہلکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے بجلی کے مسئلے کے بارے میں بھی دریافت کیا، جس پر اہلکاروں نے بتایا کہ اب انہیں بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ محسن نقوی نے ایف سی اہلکار کی والدہ کے کینسر کے علاج کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ تربیتی مرکز میں زیر تربیت اہلکاروں کا تعلق تمام صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہے، جبکہ پہلی مرتبہ 35 خواتین اہلکاروں کو بھی تربیتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل فیڈرل کانسٹیبلری، ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریننگ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایف سی اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔