
سوات، 2 اگست 2026 (غفران): سوات کے علاقے کابل میں کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہو گئے۔ یہ بات پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے اتوار کے روز بتائی۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے مرکزی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس پر حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔
ملاکنڈ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید فدا حسین نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو سکا، جس سے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کبل نے تصدیق کی کہ دھماکے میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات محمد عمر کے مطابق دھماکہ کبل چوک کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خودکش حملہ آور کا ہے۔ پولیس حکام نے مزید بتایا کہ دھماکے کے وقت علاقے میں مقامی نوجوانوں کا ایک احتجاج بھی جاری تھا، جس کی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے، جبکہ حملہ آور کی شناخت اور حملے کے منصوبہ سازوں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔