Saturday, September 19

کوہاٹ پولیس لائنز آپریشن مکمل، 8 دہشت گرد ہلاک

Kohat Police Lines Operation Completed, 8 Terrorists Killed

پشاور، 19 ستمبر 2026 (کامران راجہ): کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کے بعد شروع کیا گیا سکیورٹی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز نے 8 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ علاقے میں اہم عمارتوں کو کلیئر کر دیا، حملے اور بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حامد کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ پولیس لائنز کے اندر اسپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ کلیئرنس آپریشن ایلیٹ فورس کمانڈوز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر کیا، جبکہ سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے دستی بم کے حملے میں بازو زخمی ہونے کے باوجود آپریشن کی قیادت اور نگرانی کی۔ آئی جی پولیس نے بتایا کہ خودکش حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا، جبکہ سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی، ریجنل پولیس آفیسر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے آپریشن کی قیادت کی اور کمانڈنگ آفیسر کوہاٹ بھی موقع پر موجود تھے۔ خودکش حملے اور بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی ہے، جن میں ایک ایس پی، ڈی ایس پی، انسپکٹر اور دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں۔ حملہ پرانی پولیس لائنز کے قریب اس وقت ہوا جب بارود سے بھری گاڑی کو علاقے سے ٹکرا دیا گیا، جس کے بعد اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب ایک اور خودکش حملہ کیا گیا، جس سے ایک مسجد کے ایک حصے اور دیوار سمیت عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ بعد ازاں 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز کے احاطے میں داخل ہوئے، جس پر پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، اس دوران ایک دہشت گرد سنائپر کو ابتدائی طور پر ہلاک کیا گیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے باقی حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ حکام کے مطابق دھماکوں کے بعد 103 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 34 زیر علاج ہیں، جبکہ 5 مریضوں کے آپریشن کیے گئے اور 4 شدید زخمیوں کو پشاور کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ ریسکیو اور سکیورٹی آپریشن کے دوران کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا۔ ریسکیو 1122 نے 14 ایمبولینسز، ریسکیو و ریکوری گاڑیاں اور 40 سے زائد اہلکار موقع پر تعینات کیے، جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے 2 اہلکاروں کی لاشیں نکال کر کوہاٹ اسپتال منتقل کیں۔ شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ آئی جی ذوالفقار حامد نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ایسے حملے اہلکاروں کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، جبکہ آپریشن میں حصہ لینے اور اسے کامیابی سے مکمل کرنے والے اہلکاروں کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے پر زور دیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے اور حملے کی نوعیت و وجوہات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کے علاج کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے جبکہ شدید زخمیوں کو ضرورت پڑنے پر دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ پولیس لائنز کے اندر اہم عمارتوں کو کلیئر کر دیا ہے اور حملے میں ملوث تمام 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔