
اسپوکین، واشنگٹن(غفران) – 3 اگست 2026: امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر اسپوکین اور گردونواح میں پھیلنے والی شدید جنگلاتی آگ کے باعث تقریباً 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اسپوکین ایریا فائر تین مختلف مقامات پر لگی آگ پر مشتمل ہے، جس نے اب تک گھروں اور کاروباری عمارتوں سمیت تقریباً 600 عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اسپوکین فائر چیف ٹام ولیمز نے بتایا کہ آگ تاحال قابو میں نہیں آسکی۔ وفاقی حادثاتی انتظامی ٹیم کے مطابق اتوار تک آگ تقریباً 5,390 ایکڑ (2,180 ہیکٹر) رقبے تک پھیل چکی تھی۔ حکام کے مطابق اتوار کی سہ پہر تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
اسپوکین کی میئر لیزا براؤن نے صورتحال کو “ہمارے خطے کو درپیش سب سے بڑی قدرتی آفت” قرار دیا، جبکہ فائر فائٹرز اور ہنگامی ادارے آگ پر قابو پانے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ایوسٹا یوٹیلٹیز کی چیف ایگزیکٹو ہیدر روزن ریڈر کے مطابق اتوار کی سہ پہر تک علاقے میں تقریباً 10 ہزار بجلی صارفین بجلی سے محروم تھے۔ ریاستی حکام کے مطابق واشنگٹن بھر میں مختلف مقامات پر 250 ہزار ایکڑ (101,171 ہیکٹر) سے زائد رقبہ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں ہے۔
واشنگٹن کے گورنر باب فرگوسن نے بتایا کہ انہوں نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور وفاقی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی سے امداد کی درخواست کی ہے۔ گورنر نے ریاست بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جس کے بعد آگ پر قابو پانے، متاثرہ افراد کی مدد اور اضافی وسائل کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکیں گے۔ حکام کے مطابق فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں سے شہریوں کے انخلا اور ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔