
اقوام متحدہ، 6 اکتوبر 2026 (نوشین): یمن کے جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے باعث اگست کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر افراد ستمبر کے آغاز کے بعد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق 3 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران تقریباً 21 ہزار 800 افراد کم از کم ایک مرتبہ بے گھر ہوئے، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ ہے، جبکہ 4 اکتوبر کو مزید 6 ہزار 474 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ بے گھر ہونے والے افراد کو خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگ بار بار بے گھر ہونے کے مشکل چکر میں پھنس رہے ہیں اور عالمی برادری سے انسانی امداد کی رسائی یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مارب کے تین بے گھر افراد کے مراکز میں جائزے کے دوران محفوظ رہائش کی عدم دستیابی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا، جبکہ بعض خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور تشدد اور فضائی حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں نے مناسب بیت الخلاؤں کی کمی کی بھی نشاندہی کی۔ جائزہ لیے گئے تقریباً 45 فیصد گھرانے پہلے بھی بے گھر ہو چکے تھے اور اپنے اثاثے اور روزگار کھو چکے تھے، جس کے باعث وہ بچوں سے مشقت جیسے نقصان دہ طریقوں کا سہارا لینے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 6 اگست سے اب تک 5 ہزار 100 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں، جن میں 959 اموات شامل ہیں، جبکہ ہیضے کے کیسز تین گنا ہو گئے ہیں اور خسرہ بھی پھیل رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے یمن میں حوثی حکام کی جانب سے من مانے طور پر حراست میں لیے گئے اپنے ایک اہلکار کی رہائی کا خیرمقدم کیا اور باقی زیرحراست اقوام متحدہ اور انسانی امدادی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ عالمی ادارہ تمام ممکنہ ذرائع، بشمول حوثی حکام سے رابطوں، کے ذریعے زیرحراست اہلکاروں کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔