Thursday, October 15

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے 34 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 افراد جاں بحق

35 Killed, Including 34 Students and a Teacher, in Peshawar School Roof Collapse

پشاور، 15 اکتوبر 2026 (نوشین): پشاور کی دیر کالونی میں جمعرات کے روز ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر سمیت کم از کم 35 افراد جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق یہ واقعہ دیر کالونی کی کالج روڈ پر پیش آیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ 33 لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ دو لاشیں نصیراللہ خان بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال یا اس سے کم تھیں۔ واقعے کے بعد اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، جہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ پاک فوج کے اہلکاروں نے ریسکیو ٹیموں اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ملبے تلے دبے بچوں اور اسکول کے عملے کو نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں حصہ لیا۔ امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسکول کی تین منزلہ عمارت پہلے ہی خستہ حال تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلے ایک کلاس روم کی چھت گری، جس کے بعد عمارت کا باقی حصہ بھی منہدم ہو گیا۔ قریبی مسجد کے امام کی ملکیت اس اسکول میں دینی اور عصری تعلیم دی جاتی تھی، جہاں تقریباً 110 بچے زیرِ تعلیم تھے۔ تنگ گلیوں میں واقع ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور اسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کو امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ٹریفک پولیس کو ایمبولینسوں کی بلا تعطل آمدورفت کے لیے گرین کوریڈور قائم کرنے کا حکم دیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے قیمتی جانوں کے ضیاع اور زخمیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور کہا کہ اس سانحے پر پوری قوم سوگوار ہے۔