
کراچی، 10 اگست 2026 (نوشین): سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ متاثرہ نوجوان کے والدین کی درخواست پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔وزیر داخلہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی تجویز ابتدائی طور پر تحقیقات میں شفافیت یقینی بنانے اور متاثرہ خاندان کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے زیر غور لائی گئی تھی۔تاہم اب متاثرہ خاندان نے نئی تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد سندھ حکومت نے مجوزہ جوڈیشل انکوائری کو فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ کے وزیر داخلہ نے کہا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم کیس کا جائزہ لے گی اور قانون کے مطابق تحقیقات کو آگے بڑھائے گی۔
یہ پیش رفت متاثرہ خاندان کے وکیل جبران ناصر کے اس بیان کے بعد سامنے آئی کہ اس وقت میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے والدین نے اپنی رائے تحریری طور پر متعلقہ حکام، جن میں میئر، سندھ کے وزیر داخلہ اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس شامل ہیں، کو آگاہ کر دی ہے۔وکیل کے مطابق والدین نے حکام سے درخواست کی ہے کہ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کو قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھنے کا موقع دیا جائے اور اس مرحلے پر علیحدہ جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دیا جائے۔خاندان کے فیصلے کے بعد مجوزہ جوڈیشل انکوائری کی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ سندھ حکومت نے اس سے قبل کیس کے حوالے سے خدشات اور غیرجانبدارانہ و شفاف تحقیقات یقینی بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر غور کیا تھا۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن پر غور کرنے کا مقصد تحقیقات میں شفافیت کو مزید مضبوط بنانا اور متاثرہ خاندان کو تحقیقاتی عمل پر اعتماد فراہم کرنا تھا، تاہم والدین کی جانب سے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کے اظہار کے بعد حکومت نے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔