مری، 30 اگست, 2026 (نوشین): پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے عوامی صحت کے ماہرین، صحافیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور میڈیا پروفیشنلز کے ہمراہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کا عمل فوری طور پر تیز کیا جائے تاکہ صارفین کا تحفظ یقینی بنایا، غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال میں کمی لائی اور صحت مند غذائی انتخاب کو فروغ دیا جا سکے۔ پناہ نے مطالبہ کیا کہ ایسی مصنوعات جن میں عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد سے زیادہ شکر، سوڈیم اور سیر شدہ چکنائی موجود ہو، یا جن میں غیر شکر والے مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے اجزا شامل ہوں، ان پر اردو زبان میں سیاہ رنگ کے آٹھ کونوں والے وارننگ لیبلز نمایاں طور پر عائد کیے جائیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی اور صحت سے متعلق معلومات کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وارننگ لیبلز سادہ، واضح اور مقامی حالات کے مطابق ہونے چاہئیں۔فوڈ اینڈ نیوٹریشن پالیسی ایکسپرٹ منور حسین نے کہا کہ پاکستان میں غذائی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور صارفین بالخصوص بچے اور نوجوان بڑی تعداد میں پروسیسڈ اور الٹرا پروسیسڈ مصنوعات کے استعمال کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو ایسی مصنوعات کی شناخت کے لیے واضح، سادہ اور نمایاں وارننگ لیبلز کی ضرورت ہے جن میں صحت عامہ کے لیے تشویش کا باعث بننے والے اجزا اور غذائی اجزا زیادہ مقدار میں موجود ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کے تحفظ کے لیے مضبوط اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے، صرف صحت مند انتخاب کی ذمہ داری افراد پر عائد کرنا کافی نہیں۔ وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری پہلے ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی سفارشات کے بعد ایک شواہد پر مبنی تجویز وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو ارسال کر چکی ہے۔ تاہم یہ تجویز گزشتہ دو برس سے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی تکنیکی کمیٹیوں میں زیر غور ہے۔
پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا، “ہر گزرتا دن مزید صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات کے استعمال کے خطرے سے دوچار کر رہا ہے، جبکہ انہیں اپنی غذائی ترجیحات کے حوالے سے واضح اور آسان معلومات دستیاب نہیں۔” انہوں نے کہا کہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں اور مشروبات پاکستان میں غذائی عادات سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، اس لیے حکومت کو عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ثناء اللہ گھمن نے کہا، “ہم اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتے جب تک قابلِ روک تھام بیماریوں اور اموات میں مزید اضافہ ہوتا رہے۔”ورکشاپ کے شرکاء نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی پر زور دیا کہ لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ اقدام عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ نیوٹریئنٹ پروفائل ماڈلز اور وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کی جانب سے پیش کردہ شواہد پر مبنی تجویز کے مطابق کیا جائے۔پناہ اور شریک میڈیا پروفیشنلز نے عوام میں صحت مند غذائی انتخاب کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور ایسی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جن کا مقصد پاکستان کے عوام کے لیے صحت مند غذائی ماحول کو فروغ دینا ہے۔
