
نیویارک، 29 ستمبر 2026 (کامران راجہ): ہالی ووڈ کے معروف اداکار سلویسٹر اسٹالون نے جنگوں کو ’’بے وقوفی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنتے ہیں جبکہ جنگی اداروں اور ہتھیار بنانے والی صنعتوں کے لیے بھاری منافع کا ذریعہ بنتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 80 سالہ اداکار نے کہا کہ جنگیں بالآخر دونوں فریقوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، جہاں نوجوان فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور زندگی بھر کے لیے جسمانی نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔ سلویسٹر اسٹالون نے تسلیم کیا کہ اگر کسی ملک پر حملہ کیا جائے تو اسے اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیان کو سیاسی بحث میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگوں کے نتیجے میں دیرپا اور تکلیف دہ اثرات پیدا ہوتے ہیں، دشمنیاں نسلوں تک جاری رہ سکتی ہیں جبکہ ممالک اور معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے سابقہ خیالات پر بات کرتے ہوئے اسٹالون نے کہا کہ ایک وقت تھا جب وہ جنگ کے بھرپور حامی تھے، تاہم اب وہ اپنے اس مؤقف کو اپنی نادانی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کو رومانوی انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور مسلح تنازعات میں انہیں کوئی خاص شان یا بہادری نظر نہیں آتی، جبکہ جنگوں میں پھنسنے والے لوگوں کو اس کی بھاری انسانی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔