
لاہور، 21 ستمبر 2026 (نوشین): پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 3 کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی سفارش پر دونوں کو امن و امان کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر حراست میں لیا گیا۔ عظمیٰ اور نورین کو ان کی بہن علیمہ خان کی رہائش گاہ سے ان کے بھانجوں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں بکتر بند گاڑی میں منتقل کیا گیا۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ سمیت ملک گیر احتجاج کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ قبل ازیں علیمہ خان کے دو بیٹوں شہریز خان اور شیر شاہ کو بھی لاہور میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم ان کے وکیل رانا مدثر کے مطابق دونوں کو مختصر حراست کے بعد رہا کردیا گیا۔ رانا مدثر نے بتایا کہ نورین اور عظمیٰ کو رات تقریباً 2 بجے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ علیمہ خان کو بھی اتوار کے روز حراست میں لیے جانے کے بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے صورتحال مزید خراب ہونے کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔