Monday, October 26

حوثیوں کے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حملے، ریاض ایئرپورٹ جزوی بحالی کے لیے تیار

Houthis Target Southern Saudi Arabia as Riyadh Airport Prepares to Reopen

اسلام آباد، 25 اکتوبر 2026 (کامران راجہ):یمن کے حوثی باغیوں نے اتوار کو سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے کیے، جبکہ مملکت نے حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باوجود ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں دن بھر ممکنہ حملوں سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے، جبکہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے کم از کم 10 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا۔ سعودی عرب، جو حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، حالیہ ہفتوں کے دوران باغیوں کے مسلسل حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ یمن کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان کئی سال سے جاری جنگ بندی بھی ختم ہو چکی ہے۔ جنوبی سعودی شہر خمیس مشیط کے ایک رہائشی نے بتایا کہ صبح سے شدید بمباری جاری ہے اور دھماکوں کے باعث عمارتیں لرز رہی ہیں۔ دوسری جانب ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے نے حوثیوں کے حملوں کے بعد دو ہفتے کی بندش کے بعد اتوار کو پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا، تاہم ہوائی اڈے کی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔ حوثی باغیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر متعدد حملے کیے ہیں، جن میں رواں ماہ ہونے والا ایک حملہ بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔ حوثیوں نے تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اب بھی غیر محفوظ ہے اور ان کے لیے فوجی ہدف کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی فضائی کمپنیوں، ہوائی اڈے کے عملے اور مسافروں کو ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈے پر ہونے والی کسی بھی کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری سعودی حکومت پر عائد ہوگی۔