اقوام متحدہ، 6 اگست 2026 (غفران): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے باہر ہونے والے مہلک خودکش دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے “گھناؤنا اور بزدلانہ” دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 اگست 2026 کو ہونے والے اس حملے میں کم از کم 16 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سلامتی کونسل کے اراکین نے شہداء کے اہل خانہ، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
سلامتی کونسل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر کے ساتھ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اس گھناؤنے حملے کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا دی جائے۔ سلامتی کونسل نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات، خواہ ان کے محرکات کچھ بھی ہوں اور وہ کہیں بھی یا کسی کی جانب سے کیے جائیں، مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہیں۔ سلامتی کونسل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تمام ریاستیں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی مہاجرین کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق دہشت گردی سے پیدا ہونے والے عالمی امن و سلامتی کے خطرات کا ہر ممکن اور مؤثر طریقے سے مقابلہ کریں۔ سلامتی کونسل کے اس بیان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کے لیے عالمی برادری کی حمایت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے امن و سلامتی کے فروغ کے عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا گیا ہے۔
