کھٹمنڈو، 29 اگست 2026 (غفران): نیپال نے شدید سیلاب کے بعد موسم کی خرابی کے باعث عارضی تعطل کے بعد ہفتے کے روز تلاش اور امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 3 ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں، جبکہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق لاپتا افراد میں تقریباً 2,426 نیپال میں جبکہ 554 چین کے تبت خودمختار علاقے کے گیئرونگ کاؤنٹی میں شامل ہیں۔ لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی ہندو یاتریوں کی ہے۔ نیپال نے امدادی اور بحالی کی کوششوں کے لیے غیر ملکی ماہرین اور خصوصی تکنیکی معاونت کی اپیل کی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق تباہی کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ملک کو تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ بدھ کے روز گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے شدید سیلاب نے پہاڑی دریائی نظام میں چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا ریلا پیدا کیا، جس نے عمارتوں، پلوں اور بجلی گھروں سمیت متعدد تنصیبات کو بہا دیا۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں نیپال میں کم از کم 669 افراد جبکہ چین کے تبت میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔متاثرہ علاقے راسووا ضلع میں ایک پولیس افسر کے مطابق بارش اور دھند کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں، تاہم موسم میں کچھ بہتری کے بعد ہیلی کاپٹرز کی پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئیں اور امدادی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔
جمعے کے روز نیپال اور چین کی سرحد کے قریب سیلاب کے بعد بننے والی ایک جھیل کے پانی کی سطح بڑھنے اور اس کے لھینڈے کھولا اور تریشولی دریاؤں میں داخل ہونے کے خدشے کے باعث بھی امدادی کارروائیاں روک دی گئی تھیں۔ حکام کے مطابق ہفتے تک جھیل سے پیدا ہونے والا خطرہ کم ہوگیا تھا اور جھیل کی تہہ کے کچھ حصے نظر آنے لگے تھے۔ چینی حکام اور سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے بھی ظاہر ہوا کہ جھیل کا پانی بتدریج کم ہو رہا ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق سیلابی خطرات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک سیلابی علاقے کے بالائی حصے میں موجود دونوں جھیلیں مکمل طور پر خالی نہیں ہو جاتیں۔ دوسری جانب حکام نے بتایا کہ آفت کے تین روز بعد برآمد ہونے والی بعض لاشیں اس قدر گل سڑ چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ صحت عامہ کو لاحق خطرات اور ممکنہ بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایسی لاشوں کو دفن کیا جائے گا۔ چتوان ضلعی انتظامیہ کے مطابق لاشوں سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جائیں گے، جس کے بعد انہیں کھلی جگہ پر دفن کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش، متاثرین کی امداد اور تباہ شدہ علاقوں کی بحالی کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
