اسلام آباد، 29 اگست 2026 (کامران راجہ): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش بنیادی معاشی چیلنج یہ ہے کہ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، زیادہ پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار میں تبدیل کیا جائے۔ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں ہارورڈ بزنس اسکول کے ایم بی اے طلبہ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو صرف اپنے مسائل کے تناظر میں نہیں بلکہ اس کی وسیع معاشی اور انسانی صلاحیتوں کے حوالے سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑی آبادی، نوجوان افرادی قوت، اہم جغرافیائی محل وقوع، زرعی اور معدنی وسائل، بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور عالمی سطح پر موجود پاکستانی تارکینِ وطن کو طویل مدتی معاشی تبدیلی کی اہم بنیادیں قرار دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی ترقی، بیرونی کھاتے پر دباؤ، استحکام اور سست روی کے بار بار آنے والے چکر سے نکلنے کے لیے معیشت کو پیداواری صلاحیت اور برآمدات کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دینا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن صرف استحکام ترقی نہیں۔ پائیدار خوشحالی کے لیے پیداواری صلاحیت، جدت، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے وفد کو حکومت کے قومی تبدیلی کے فریم ورک اڑان پاکستان کے بارے میں بھی بریفنگ دی، جو پانچ ’ایز‘ پر مبنی ہے۔ ان میں برآمدات، کاروبار اور روزگار؛ ای پاکستان اور ڈیجیٹل معیشت؛ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور پانی کا تحفظ؛ توانائی اور انفراسٹرکچر؛ جبکہ مساوات، اخلاقیات اور بااختیار بنانا شامل ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم اصل مقصد محض جی ڈی پی کے عددی ہدف کا حصول نہیں بلکہ قومی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2035 تک پاکستان عالمی منڈی میں ایسی کون سی مصنوعات اور خدمات مسابقتی انداز میں فراہم کر سکے گا جو آج فراہم نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق ترقی کا اصل مقصد قومی صلاحیتوں کی تعمیر ہے۔ منصوبہ بندی وزیر نے پیداواری صلاحیت، معیار اور جدت کو پاکستان کی مستقبل کی مسابقت کے لیے اہم عوامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پروڈکٹیوٹی، کوالٹی اور انوویشن کے ذریعے قومی سطح پر ایسی ثقافت فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جس سے عالمی سطح پر “پاکستان میں تیار کردہ مصنوعات” کو قابلِ اعتماد، معیاری اور باقدرخدمات و مصنوعات کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔انسانی سرمائے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے عوام ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوجوان آبادی اس وقت آبادیاتی بوجھ بن سکتی ہے جب اسے معیاری تعلیم، غذائیت، صحت، مہارتوں اور روزگار کے مواقع میسر نہ ہوں۔ انہوں نے انسانی سرمائے کو ملک کا سب سے اہم انفراسٹرکچر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں کی پائیدار طاقت صرف مادی اثاثوں میں نہیں بلکہ جامعات، تحقیقی اداروں اور جدت کے نظام میں بھی پوشیدہ ہے۔
مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ترقی پذیر معیشتوں کے لیے تاریخی موقع فراہم کر رہی ہے، تاہم جو ممالک تکنیکی صلاحیتیں پیدا کرنے میں ناکام رہیں گے وہ نئی عالمی ٹیکنالوجی کی تقسیم میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا صرف صارف بننے کے بجائے مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، جدید مینوفیکچرنگ، زراعت اور خلائی علوم سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی تیار کرنے اور اسے مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے والا ملک بننا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی لچک کو محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے براہ راست اثرات مالی استحکام، غذائی تحفظ، انفراسٹرکچر، صحت عامہ اور غربت پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کے بدلتے ہوئے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی پر زیادہ توجہ دی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی منتقلی، زراعت، برآمدات اور کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ اصلاحات کی سیاسی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے طویل عرصے تک پالیسیوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ کامیاب ممالک مختلف معاشی ماڈلز اختیار کر سکتے ہیں، تاہم ان میں ایک قدر مشترک پالیسیوں کی سمت میں تسلسل ہے۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے اچھی پالیسیوں پر مسلسل اور مستقل بنیادوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
