اسلام آباد، 28 اگست 2026 (نوشین): سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس نوعیت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کو سابق جسٹس شبیر رضا رضوی نے چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کا آئین دستور ساز اسمبلی نے تشکیل دیا تھا، جس نے 1973 کے آئین کے تحت سپریم کورٹ کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت قرار دیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو دستور ساز اسمبلی قرار نہیں دیا جا سکتا اور آئین کی بنیادی خصوصیات میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی فرد کو تاحیات استثنیٰ دینا اسلامی ریاست میں قابلِ قبول نہیں، جبکہ عدلیہ کی آزادی کا تعلق براہِ راست ججز کی تقرری سے ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے مؤثر طور پر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ 27ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے اور آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت دی گئی تاحیات استثنیٰ کی شق بھی ختم کی جائے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس سے قبل بھی 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر ایک اور درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
