
کراچی، 3 اگست 2026 (غفران): آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے 8 اگست سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے رہنما ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ملک بھر کی ٹرانسپورٹ تنظیموں نے متفقہ طور پر ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے، جو مطالبات کی منظوری تک ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم پرویز علی ملک سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مطالبات پر مشتمل چارٹر پیش کیا جا چکا ہے، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال جاری رہے گی۔
الائنس کے اہم مطالبات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا نظام ختم کرکے ماہانہ قیمتوں کا تعین، حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی واپسی، ٹول ٹیکس میں کیے گئے اضافے کا خاتمہ اور اسے 30 جون 2024 کی سطح پر بحال کرنا شامل ہے۔ ملک شہزاد اعوان نے مطالبہ کیا کہ گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرکے اسے آئل ٹینکرز کی طرح 2 فیصد کیا جائے۔ انہوں نے ایکسل لوڈ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور اوور لوڈنگ کی مکمل روک تھام کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کسٹمز کے ایس آر او 1619/2024 کو واپس لینے، ڈرائیوروں کو مناسب ٹیسٹنگ کے بعد ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل لائسنس جاری کرنے، اور کراچی پورٹ و پورٹ قاسم کے قریب ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے مناسب پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے بلوچستان میں ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ الائنس کے رہنما نے 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں پر پابندی کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے اس کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سڑک حادثات کی صورت میں 97 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کی شرط کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا اور سندھ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے دوران تھرڈ پارٹی انشورنس کے نام پر مبینہ بھتہ خوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔