Monday, August 3

سندھ حکومت کا ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے ماہانہ مالی معاونت اور مفت علاج کا اعلان

کراچی، 3 اگست 2026 (غفران): سندھ کے وزیر محنت، انسانی وسائل اور سوشل سیکیورٹی سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچوں کو مکمل طبی علاج فراہم کیا جائے گا، جبکہ ان کے والدین کو 40 ہزار سے 80 ہزار روپے تک ماہانہ مالی معاونت بھی دی جائے گی۔ یہ اعلان انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نائب چیئرمین قاضی خضر کی سربراہی میں آنے والے تین رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ سعید غنی نے بتایا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کیے گئے اینڈومنٹ فنڈ کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک آزاد اور خودمختار بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ بچوں کے علاج کی نگرانی کے لیے ملک بھر کے ممتاز طبی ماہرین اور بڑے ہسپتالوں کے سربراہان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی جا رہی ہے، جو علاج کے عمل کی مؤثر نگرانی کرے گی۔

صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی اور انہیں ہر ممکن طبی اور مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سعید غنی کے مطابق اب تک لیبارٹری رپورٹس میں 120 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 81 بچے سوشل سیکیورٹی نظام میں رجسٹرڈ جبکہ 39 بچے غیر رجسٹرڈ ہیں۔ سندھ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو معیاری علاج، مالی معاونت اور مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔