اسلام آباد، 3 اگست 2026 (کامران راجہ): ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت پاسپورٹ سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول، سائبر سیکیورٹی سینٹر کے مجوزہ قیام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد پاسپورٹ سروسز کی ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانا، سائبر سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانا اور شہریوں کو جدید، محفوظ اور معیاری خدمات فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن اور ہدایات کے مطابق پاسپورٹ سروسز کی تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن، عوامی خدمات میں بہتری اور پاکستان سمیت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران مجوزہ سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول، سائبر سیکیورٹی سینٹر کے تصور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ منصوبے کے تحت پاسپورٹ کے تمام اہم آپریشنز اور ڈیجیٹل سروسز کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے گا، جس کے ذریعے مرکزی نگرانی، آپریشنل کنٹرول، مؤثر سائبر سیکیورٹی، فوری فیصلہ سازی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ مجوزہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں مرکزی کال سینٹر، انٹیگریٹڈ ڈیٹا سینٹر، مرکزی آن لائن پاسپورٹ درخواست پروسیسنگ سسٹم، نیٹ ورک آپریشنز اور انفراسٹرکچر مانیٹرنگ، شِکرا محفوظ ہائبرڈ انٹیلیجنس برائے تجزیہ، معلومات اور فوری ردِعمل، جدید ڈیجیٹل بورڈ روم جس میں ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور فیصلہ سازی کی سہولت موجود ہو، اور پاسپورٹس کی پرنٹنگ، ڈسپیچ، ترسیل، ٹریکنگ اور مانیٹرنگ کا مکمل مربوط نظام شامل کیا جائے۔ محمد علی رندھاوا نے ڈیٹا بیس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، نیٹ ورک آپریشنز، سائبر سیکیورٹی اور پالیسی سے متعلق ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ مجوزہ دستاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیا نظام محفوظ، مضبوط، مؤثر اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ عالمی معیار کی پاسپورٹ سروسز کی فراہمی، قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا تحفظ اور شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
