
نیویارک، 17 جولائی 2026 (نوشین): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ رہنما سید شمیم عباس نقوی، چیف ایگزیکٹو آفیسر سیف لی شیئر، اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی ڈائریکٹر پروفیسر صبیحہ الکائر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں ٹیکنالوجی، جدت، تحقیق اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سید شمیم عباس نقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر گفتگو کی۔ ملاقات میں جدت پر مبنی ماحول کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے اڑان پاکستان منصوبے کے تحت حکومت کے علم پر مبنی معیشت کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جدت، ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کے تعاون اور عالمی ٹیکنالوجی رہنماؤں کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی ڈائریکٹر پروفیسر صبیحہ الکائر کے ساتھ علیحدہ ملاقات میں کثیر جہتی غربت، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے عالمی سطح پر کثیر جہتی غربت کی پیمائش کے شعبے میں کی نمایاں خدمات کو سراہا اور حکومتوں کو ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرنے کے ادارے کے کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ترقیاتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، غربت میں کمی اور عوامی معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے شواہد پر مبنی تحقیق اور جدید پالیسی اقدامات سے استفادہ جاری رکھے گا۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت حکومت کا ترقیاتی وژن انسانی ترقی، سماجی شمولیت، جدت اور ڈیٹا پر مبنی طرزِ حکمرانی کو قومی منصوبہ بندی کے مرکز میں رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں، تحقیقی مراکز اور ماہرین کے ساتھ تعاون پاکستان کی پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔ یہ ملاقاتیں پاکستان کی جانب سے ٹیکنالوجی، جدت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں عالمی شراکت داریوں کے فروغ کی مسلسل کوششوں کی عکاس ہیں، جو ملک کی معاشی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں۔