Thursday, August 6

پنجاب کابینہ کے 36ویں اجلاس میں گورننس، امن و امان، زراعت اور پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری

لاہور، 6 اگست 2026 (کامران راجہ): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پنجاب کابینہ کا 36واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں گورننس، عوامی خدمات، امن و امان، زراعت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کی ہے، جو قائد محمد نواز شریف کی عوامی مقبولیت اور مؤثر قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام بھی پنجاب کی طرح ترقیاتی منصوبوں، صاف ستھرے شہروں اور الیکٹرو بس جیسے جدید سفری نظام کے خواہاں ہیں۔ امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کچہ کے علاقے میں تقریباً 30 برس بعد اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ نومبر سے علاقے میں جرائم کی شرح صفر رہی ہے۔ کابینہ نے کچہ کے علاقے میں تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے 1.1 ارب روپے مالیت کے جدید اسلحہ اور حفاظتی آلات کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ہارڈ ایریا الاؤنس، پولیس شہداء کے لیے شہید پیکج کے قواعد میں نرمی اور کچہ کے علاقے میں پہلی مرتبہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کو بھی سراہا گیا۔

نوجوانوں کو پولیس میں شمولیت کی ترغیب دینے کے لیے پولیس بھرتیوں میں خصوصی رعایتی پیکج کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ نے “اپنا کھیت، اپنا روزگار” پروگرام کا جائزہ لیا، جس کے تحت 30 ہزار افراد کو الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم کے لیے ایک لاکھ 71 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 60 ہزار درخواست گزار اہل قرار پائے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں گندم کی کاشت کی مزید حوصلہ افزائی اور کسانوں کی معاونت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اچھی فصل کے باوجود گندم کی کمی کا تاثر تشویش کا باعث ہے۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں 900 سیکرٹری یونین کونسلز کی بھرتی کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کو محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ساتھ ضم کرکے وزیرِ تعلیم کے ماتحت کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ انہوں نے پنجاب بھر میں سرکاری دکانوں کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔

کابینہ نے پنجاب کے شفاف امتحانی نظام کو سراہتے ہوئے میٹرک امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی سرکاری اسکول کی ٹیچر کی بیٹی کو مبارکباد پیش کی۔ وزیراعلیٰ نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ میٹرک امتحانات میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں 78 فیصد شرح طالبات کی رہی۔ اجلاس میں مون سون بارشوں اور اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے کیے گئے پیشگی اقدامات کو سراہا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بارشوں کے دوران فوری نکاسی آب کے مؤثر انتظامات پر معاون خصوصی شعیب مرزا کی کارکردگی کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے ہر ضلع اور تحصیل تک الیکٹرو بس سروس توسیع دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دسمبر تک پنجاب میں 1,100 الیکٹرو بسیں فراہم کی جائیں گی۔ کابینہ نے عاشورہ محرم اور چہلم کے دوران بہترین انتظامات پر کابینہ کمیٹی، صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق، بلال یاسین، سیکرٹری داخلہ قاضی احمد جاوید اور متعلقہ اداروں کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے سیمینار میں پنجاب کی جیل اصلاحات کو ملنے والی پذیرائی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور سیکرٹری داخلہ قاضی احمد جاوید کی خدمات کو سراہا گیا۔ اسی طرح محکمہ پاپولیشن ویلفیئر میں اصلاحات پر صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری نادیہ ثاقب کی کارکردگی کی بھی تعریف کی گئی۔ کابینہ نے نیشنل ویٹ پالیسی 2026-2030 کے تحت اسٹریٹجک ذخائر اور اسٹاک مینجمنٹ کا جائزہ لیا، جبکہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ سے متعلق امور کو حتمی شکل دینے کے لیے چار رکنی وزارتی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی بھی ناگزیر ہے تاکہ صوبے میں معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور صنعتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔