Sunday, September 20

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترکیہ تیار

Turkiye vows to meet Saudi military needs under Makkah pact amid Houthi attacks

انقرہ، 20 ستمبر 2026 (غفران): ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے جاری حملوں کے تناظر میں ترکیہ مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حاکان فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر سنگین حملے ہو رہے ہیں اور ترکیہ خاص طور پر تکنیکی فوجی معاملات میں سعودی عرب کی مدد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ گزشتہ ماہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے تنازع میں شامل کرنا ناقابل قبول ہے کیونکہ ریاض جنگ کا حصہ بننے کا خواہاں نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لڑائی کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز تمام فریقین تک پہنچائی گئی ہیں اور خبردار کیا کہ تنازع کے اقتصادی اثرات اب ناقابل برداشت حد تک بڑھتے جا رہے ہیں۔ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والے ترکیہ نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ مزید ممالک کے لیے کھلا ہے اور اس کا مقصد موجودہ اتحادوں کی جگہ لینا نہیں۔ پاکستان نے بھی کہا ہے کہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے جواب میں مکہ معاہدے کے تحت اسلام آباد کی جانب سے فوجی کارروائی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم وقت آنے پر پاکستان کارروائی کرے گا۔ اس سے قبل یمن کے حوثیوں نے ریاض میں حساس تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ سعودی دارالحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب آگ کے شعلے اور دھویں کے بڑے بادل بھی دیکھے گئے۔ ترکیہ نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔