Monday, September 21

ایران کا یورپی ملک میں خفیہ اجلاس، امریکا کی دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ

Iran Claims US Planning Another Attack at Secret Meeting in European Country

تہران، 20 ستمبر 2026 (غفران): ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی مسلح افواج کی مشترکہ کمانڈ نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک تفصیلی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے بعض علاقائی ممالک کو اعتماد میں لینے کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘ کے مطابق انٹیلی جنس معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ یورپ کے ایک ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران کیا گیا، تاہم بیان میں ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ امریکا گزشتہ جنگ میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور بعض علاقائی ممالک کے اشارے پر دوبارہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایرانی فوجی حکام نے خطے کے ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی جارحیت کا حصہ بننے سے گریز کریں، بصورت دیگر انہیں بھی جنگ میں شریک تصور کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایک اور حملے کا قوی امکان ہے، تاہم تہران ’فیصلہ کن جنگ‘ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے اور مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف بھی ان کے سامنے رکھ چکا ہے۔ محسن رضائی کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی تین شرائط ہیں، جن میں ایران سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے اپنے مطالبات امریکا تک پہنچا دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی پاسداری اور شرائط پوری کیے جانے تک مذاکرات کی میز پر واپسی مشکل رہے گی جبکہ آبنائے ہرمز بند رہے گی۔