
اسلام آباد 14 اپریل 2026 (کامران راجہ):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اہم قومی معاملات پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا۔
ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے حکام نے کمیٹی کو ایجنڈا نکات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ ذیلی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں چھوٹا لاہور سے متعلق انکوائری رپورٹ تیار کر کے جمع کرا دی گئی ہے جس میں تمام متعلقہ تفصیلات شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ پیٹرولیم سے متعلق امور پر بلوچستان کے چیف سیکرٹری کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے۔
کنونیئرذیلی کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسٹمز حکام کی جانب سے 22 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا پیٹرول ضبط کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ایندھن کہاں منتقل کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے مبینہ طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے قومی محصولات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس ایندھن کی ترسیل اور منزل کے حوالے سے جامع رپورٹ بھی طلب کر لی۔
کنونیئر ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے چیف سیکرٹری سے اس حوالے سے مکمل معلومات حاصل کی جائیں اور باضابطہ نوٹس جاری کیا جائے۔ مزید برآں چیف سیکرٹری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ وہ اسمگلنگ کی روک تھام اور متعلقہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دے سکیں اور کمیٹی کو مکمل طور پر آگاہ کیا جا سکے۔
ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا، پاٹا اور ملحقہ علاقوں میں ٹیکس چھوٹ کے حوالے سے ممبر کسٹمز کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ یہ علاقے تیزی سے اسمگلنگ کے مراکز بنتے جا رہے ہیں جو قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ترقی کے بجائے ان علاقوں میں ٹیکس چوری کو فروغ مل رہا ہے جس کے باعث ملکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ذیلی کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ٹیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ مزید یہ کہ کسٹمز حکام کو ہدایت دی گئی کہ ان علاقوں میں منتقل ہونے والے سامان کی مجموعی مقدار، وہاں تیار ہونے والی اشیاء اور بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں میں بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے فروخت ہونے والی مصنوعات کی مکمل تفصیلات مرتب کی جائیں۔
کنونیئر ذیلی کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ٹیکس نظام میں عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والے افراد پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ دیگر ٹیکس چوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خود بھی کمیٹی اجلاس کے دنوں میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے نوٹسز موصول ہوتے ہیں۔
ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ممبر آپریشنز کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔کنونیئر ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ مسٹر زبیر جو کمیٹی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں کو جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی مفاد میں مثبت کردار ادا کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ذیلی کمیٹی کوایف آئی اے حکام نے آگاہ کیا کہ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق متعلقہ محکموں کو خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں اور آئندہ 10 یوم میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ شہروز رشید خان نے تحریری بیان جمع کرا دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گودام سے 2,202 سگریٹ کارٹن غائب ہوئے تھے۔
ذیلی کمیٹی کے کنونیئر نے تمباکو صنعتوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ان مقامات پر چوکیاں قائم کی جائیں تاکہ اسٹاک کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اندر آنے اور باہر جانے والے تمباکو اسٹاک پر کڑی نگرانی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت اجاگر کی تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک رکن نے کمیٹی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں کرپشن کے خاتمے کے لیے قابل اور دیانتدار افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بدعنوان افسران کے خلاف متعدد محکمانہ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں جبکہ موجودہ دور میں کئی اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف بھی کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی ایماندار افسران کی کارکردگی کو سراہنے اور انہیں انعامات دینے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ذیلی کمیٹی کے کنونیئر نے ایک اور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ 765 کے وی داسو-اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن گرڈ اسٹیشن منصوبہ (اسلام آباد ویسٹ، لاٹ-IV) میں 1 ارب 28 کروڑ روپے کی مبینہ خرد برد ہوئی جسے بولی کے جائزے میں شامل نہیں کیا گیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے اور نیب کو ہدایت کی کہ اس معاملے میں ملوث ٹھیکیدار اور این ٹی ڈی سی کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ذیلی کمیٹی کے رکن سینیٹر عمر فاروق نے بلوچستان میں پیٹرولیم اسمگلنگ کی روک تھام کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ میں ڈیزل 240 روپے فی لیٹر جبکہ دیہی علاقوں میں 210 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ کسٹمز حکام نے آگاہ کیا کہ گزشتہ رات حب میں 75 ہزار لیٹر ڈیزل ضبط کیا گیا جبکہ حیدرآباد سندھ میں بھی مزید مقدار برآمد ہوئی۔کسٹمز حکام نے مزید بتایا کہ ایران سرحد کے ساتھ ساتھ پنجگور، گوادر، کیچ اور واشک جیسے اضلاع میں ان کی کوئی عملی موجودگی نہیں ہے اور وہ اس وقت بلوچستان کے صرف سیٹلڈ علاقوں تک محدود ہیں۔ سینیٹر عمر فاروق نے نشاندہی کی کہ قلعہ عبداللہ وادی میں کھلے عام بھنگ اور افیون کی کاشت ہو رہی ہے جبکہ اس کے خلاف
مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
ذیلی کمیٹی کے کنونیئر نے بلوچستان سمیت فاٹا اور فانا کے ٹیکس فری زونز میں تعینات غیر فعال کسٹمز افسران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی اور ان کے اثاثوں کی نگرانی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
کسٹمز حکام نے بتایا کہ اس وقت مقامی آبادی کو ایران سے روزانہ 30 لاکھ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت ہے جو پہلے 65 لاکھ لیٹر تھی۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں جن میں پی ایس او، شیل اور اٹک شامل ہیں فعال نہیں ہیں۔
کنونیئر ذیلی کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ہدایت دی کہ پی ایس او کو خط لکھ کر بلوچستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور ان علاقوں تک ترسیل کے لیے ٹینکر مالکان کو ادا کیے جانے والے اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کی جائیں۔
ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیل فیکٹریوں نے 100 ارب روپے مالیت کا خام مال درآمد کیا جبکہ آئل اور گھی بنانے والے اداروں نے 2021 سے اب تک ٹیکس فری علاقوں میں 320 ارب روپے مالیت کا ہائیڈروجنیٹڈ ویجیٹیبل آئل، ویجیٹیبل گھی اور وناسپتی گھی درآمد کیا ہے۔ کسٹمز حکام کے مطابق اس وقت پاکستان میں 409 درآمد کنندگان فعال ہیں۔
کنونیئر ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ ٹیکس فری علاقوں میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔