Wednesday, April 15

اے ایم آئی میٹرز کے ذریعے اوور بلنگ کے مسئلے پر قابو پایا جارہاہے۔

 

 

اسلام آباد: 14 اپریل 2026(نوشین):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ اس بات پر فخر ہے کہ آئیسکو کے تقریباً پچیس فیصد صارفین کے پاس اے ایم آئی میٹرز نصب ہو چکے ہیں جو کہ تقریباً گیارہ سے بارہ لاکھ میٹرز بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے ایم آئی میٹرز کے ذریعے اوور بلنگ کے مسئلے پر قابو پایا جا رہا ہے جبکہ انسانی مداخلت کے خاتمے سے نظام کی شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ مزید برآں ان میٹرز میں نیٹ میٹرنگ کی سہولت پہلے سے موجود ہے جس کے لیے میٹر کی تبدیلی درکار نہیں، جبکہ صارفین موبائل ایپ کے ذریعے اپنی بجلی کی کھپت تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے اور ون لنک کے ذریعے بلوں کی ادائیگی بھی آسان ہو گی۔

مزید کہا کہ آئیسکو میں نصب تقریباً 11 سے 12 لاکھ میٹرز کی اے ایم آئی کنٹرول سینٹر سے مؤثر مانیٹرنگ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتِ پاکستان وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی اور مکمل شفافیت کے حامل نظام کے ذریعے صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں، بالخصوص جون کے بعد، صارفین بآسانی یہ جان سکیں گے کہ ان کا بجلی کا بل کتنا ہے، سسٹم آن یا آف کیوں ہے، اور بلنگ سے متعلق مسائل اسی کسٹمر بیس کے اندر مؤثر انداز میں حل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت اس جدید نظام کو مرحلہ وار پورے پاکستان میں متعارف کروانے کے لیے پُرعزم ہے اور تقریباً ایک کروڑ سے زائد اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کا پروگرام جلد شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سنگل فیز میٹرز کی تیز رفتار ڈیجیٹائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے بجلی صارفین کو نمایاں سہولت ملے گی۔

وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورۂ آئیسکو اے ایم آئی کنٹرول سینٹر کے موقع پر کیا۔

دورے کے آغاز پر چیرمین آئیسکو ڈاکٹر طاہر مسعود سی ای او آئیسکو چوہدری خالد محمود چیف انجینئر کامران آفتاب پروجیکٹ ڈائریکٹر اے ایم آئی محسن رضا گیلانی نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا۔ بعد ازاں انہیں اے ایم آئی منصوبے کے تحت میٹرز کی تنصیب اور ان کے طریقۂ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ اس جدید نظام کے ذریعے بجلی چوری کی مؤثر روک تھام کے لیے الارمز اور ایونٹس کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ کنکشن کی منقطع اور بحالی کی لاگت میں سو فیصد تک کمی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ سسٹم سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر بہتر فیصلہ سازی کو فروغ ملے گا اور مجموعی طور پر شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

بعد ازاں وفاقی وزیر کو اے ایم آئی کنٹرول سینٹر کا دورہ کروایا گیا جہاں انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح اس مرکز سے میٹرز کا ڈیٹا، وولٹیج اور کرنٹ کے استعمال سمیت دیگر اہم معلومات ریئل ٹائم میں مانیٹر کی جا رہی ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ اس نظام کے ذریعے کسی بھی خرابی یا مسئلے کی فوری نشاندہی کر کے بروقت اور مؤثر حل تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔