
اسلام آباد، 8 نومبر 2026 (غفران): پاکستان کے اہم آبی و توانائی منصوبے دیامر بھاشا ڈیم میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکوں کے قواعد کی خلاف ورزیوں، غیر مجاز ادائیگیوں اور انتظامی غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2025-26 کے مطابق جون 2025 تک منصوبے پر تعمیراتی کام کی حقیقی پیش رفت صرف 19.95 فیصد رہی، جبکہ مالی پیش رفت 39.67 فیصد تک پہنچ گئی، جو سرکاری اخراجات اور تعمیراتی کام کے درمیان نمایاں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کے لیے اکتوبر 2010 سے جون 2021 کے دوران ڈپٹی کمشنر/لینڈ ایکوزیشن کلکٹر چلاس کے بینک اکاؤنٹ میں 73 ارب 31 کروڑ روپے سے زائد منتقل کیے گئے، جن میں سے 4 ارب 96 کروڑ روپے سے زائد 24 نجی بینکوں میں منتقل کیے گئے۔ آڈٹ نے اس اقدام کو ٹریژری رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ذمہ داری کے تعین اور مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی سفارش کی ہے۔ مرکزی ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ پاور چائنا اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے مشترکہ منصوبے کو 442 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد میں دیا گیا، تاہم آڈٹ نے ٹھیکیدار کی اہلیت کے معیار پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ کنسلٹنسی خدمات کے 27 ارب 18 کروڑ روپے کے معاہدے پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جبکہ کنسلٹنٹ کے انتخاب کا طریقہ کار کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن سے تبدیل کرکے کوالٹی بیسڈ سلیکشن کرنے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ رپورٹ میں کنٹریکٹ میں ترمیم کے ذریعے مرکزی ٹھیکیدار کو 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد اضافی ادائیگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ کے مطابق آر سی سی کنکریٹ کی تنصیب سے متعلق کام کیے بغیر ادائیگی کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا اور موجودہ بل آف کوانٹٹیز کی رقم کو دو ادائیگیوں میں تقسیم کرکے ٹھیکیدار کو اضافی رقم ادا کی گئی۔ رپورٹ میں ایک ارب 92 کروڑ روپے کے موبلائزیشن ایڈوانس کی واجب الادا اقساط بروقت وصول نہ کرنے اور مزید ایک ارب 12 کروڑ روپے کی وصولی 50 اقساط میں کرنے کی منظوری پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔ اسی طرح 20 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیوں میں معاہدے کے مطابق 10 فیصد ریٹینشن منی کی کٹوتی نہ کرنے کے باعث ٹھیکیدار کو 67 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی کا انکشاف ہوا۔ آڈٹ نے کنسلٹنٹس کے لیے دفاتر اور رہائشی سہولیات کی فراہمی کے نام پر ٹھیکیدار کو 53 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد اور سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے دعوے پر 10 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیوں کو بھی قابل اعتراض قرار دیا۔ دیگر بے ضابطگیوں میں ڈیزائن میں تبدیلی کے باعث 10 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اور تعمیراتی کاموں میں غیر معمولی نرخ استعمال کرنے سے 8 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی شامل ہے۔ رپورٹ میں کیڈٹ کالج چلاس کے بیرونی ترقیاتی کاموں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب کے لیے سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمتیں استعمال کرنے، شاہراہ قراقرم کی مرمت پر خرچ ہونے والے تقریباً دو کروڑ روپے وصول نہ کرنے اور دیگر ٹھیکوں میں ڈرائیوروں کی تنخواہوں اور بلٹ پروف گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق زمین کے حصول کے لیے ڈپٹی کمشنر/لینڈ ایکوزیشن کلکٹر کوہستان کو 49 کروڑ 88 لاکھ روپے سے زائد پیشگی ادا کیے گئے، جبکہ گلگت بلتستان حکومت سے پاور ہاؤس کے آپریشن اور مینٹی ننس کی مد میں چار کروڑ روپے سے زائد وصول نہیں کیے گئے۔ منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 35 ہزار 924 ایکڑ اراضی حاصل کرنا مقصود تھی، جس میں سے جون 2025 تک 32 ہزار 790 ایکڑ حاصل کی جا چکی تھی جبکہ 3 ہزار 134 ایکڑ زمین کا حصول باقی تھا۔ رپورٹ میں انتظامی اور حکومتی سطح پر بھی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ منصوبے کے لیے قائم کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 16 میں سے چار نشستیں خالی تھیں، جبکہ مالی سال 2022-23 سے 2024-25 تک کمپنی کے سالانہ مالی گوشوارے بھی تیار نہیں کیے گئے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود بورڈ کی خالی نشستیں پُر نہ کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کی لاگت میں 91 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تکمیل کے شیڈول میں بھی نمایاں تاخیر ہوئی ہے۔ ڈیم کی ابتدائی تکمیل جون 2027 مقرر تھی، تاہم معاہدے کے تحت یہ تاریخ فروری 2029 تک بڑھا دی گئی، جبکہ توسیع شدہ شیڈول کے مطابق منصوبے کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے۔ مزید برآں، بجلی کی پیداوار کے لیے 4 ہزار 500 میگاواٹ کے پاور ہاؤس کا پی سی ون اپریل 2023 میں منظور ہونے کے باوجود آڈٹ کی مدت ختم ہونے تک اس کی تعمیر کا ٹھیکہ نہیں دیا گیا تھا۔ آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ زمین کے حصول اور ٹھیکیداروں سے متعلق تمام مالی معاملات کی جامع جانچ پڑتال کی جائے، غیر مجاز ادائیگیوں اور واجب الادا رقوم کی وصولی یقینی بنائی جائے اور سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔