اسلام آباد، 8 نومبر 2026 (غفران): ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران تین آئل ٹینکرز دھماکوں کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ صبح سے اب تک تین آئل ٹینکرز میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی، یہ جہاز ایران کے منظور شدہ بحری راستے کے بجائے غیر مجاز راستے سے گزر رہے تھے۔ ایرانی فورسز کے مطابق جہازوں میں آگ بحری راستے میں نصب سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث لگی۔ ایرانی حکام نے تاحال متاثرہ آئل ٹینکرز کے نام، ان کی ملکیت اور قومی شناخت ظاہر نہیں کی، جبکہ عملے کے ارکان اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق بھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ایران نے بحری جہازوں پر زور دیا ہے کہ وہ نقل و حرکت کے لیے اس کے منظور شدہ بحری راستوں پر عمل کریں، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس اہم آبی راستے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
