
اسلام آباد، 10 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا، سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا اور ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے علاج اور معاونت تک رسائی بہتر بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، تاہم ملک کی صرف پانچ فیصد آبادی کو ذہنی صحت کی سہولیات میسر ہیں، جبکہ تقریباً 95 فیصد افراد مناسب علاج سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین کی شدید کمی ہے اور ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریباً 0.19 ماہرِ نفسیات دستیاب ہیں، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ اوسط سات ماہرین فی ایک لاکھ افراد ہے۔ ماہرین کی محدود دستیابی اور علاج کی سہولیات تک ناکافی رسائی ملک بھر میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ حکومت نے یکم اکتوبر کو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسف) اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026ء تا 2035ء متعارف کرائی۔ اس پالیسی کا مقصد ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا اور ضرورت مند افراد کے لیے علاج اور معاونت کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سال ذہنی صحت کے عالمی دن کا موضوع ’’خدمات تک رسائی: آفات اور ہنگامی حالات میں ذہنی صحت‘‘ ہے، جس میں بحرانوں اور ہنگامی حالات کے دوران ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔ اس مہم کا پیغام ’’حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘‘ بھی ہے، جس کے ذریعے ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کے تجربات سننے اور انہیں اہمیت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ذہنی صحت کے مسائل سے متاثرہ افراد کے نقطۂ نظر کو پالیسی سازی، علاج کی حکمت عملیوں اور معاونتی نظام کا حصہ بنانا ہے۔ ذہنی صحت کے عالمی دن کا پیغام ہے کہ سماجی بدنامی کا خاتمہ کیا جائے، ذہنی صحت کی خدمات کو بہتر بنایا جائے اور پاکستان بھر میں ہر فرد کے لیے بروقت، معیاری اور قابلِ برداشت علاج کی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔