
تل ابیب، 10 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز میں قتل کیے جانے کو ’’غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے اسرائیل کے قومی مفادات کو فائدہ نہیں پہنچا۔ تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر ریشون لیزیون میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے یائیر گولان نے کہا کہ علی خامنہ ای کو قتل کرنا غلطی تھی، اس لیے نہیں کہ وہ موت کے مستحق نہیں تھے بلکہ اس لیے کہ یہ اقدام اسرائیل کے مفادات کے لیے مفید ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ علی خامنہ ای کی عمر 86 برس تھی۔ گولان نے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کے نئے سپریم لیڈر بننے سے ملک کی قیادت مزید سخت گیر اور پرتشدد افراد کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ تھا اور اسے حاصل نہیں کیا جاسکا۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بھی عملاً بند ہوگئی، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس صورتحال نے تجارتی جہاز رانی کو متاثر کیا اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھا دیا۔ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور علاقائی سلامتی کے ساتھ عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔ جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے بعد واشنگٹن اور تہران نے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد جنگ بندی اور مزید مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔