
ماسکو، 10 اکتوبر 2026 (نوشین): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ یوکرین کے ڈرون حملوں نے تین فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔ کریملن کے مطابق روسی صدر کے معاون برائے خارجہ پالیسی یوری اوشاکوف نے بتایا کہ گزشتہ ماہ روسی پارلیمانی انتخابات کے دوران کیف کی جانب سے ماسکو، دیگر شہروں اور پولنگ اسٹیشنوں پر حملوں نے امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی جلد بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو انتخابات کے بعد کیف کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار تھا، تاہم حملوں کے باعث امن عمل خطرے میں پڑ گیا۔ اوشاکوف کے مطابق روس اب اس بات پر غور کرے گا کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ یوکرین میں جنگ خطرناک تعطل کا شکار ہے، تاہم امریکہ تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ کریملن کے مطابق پیوٹن اور ٹرمپ نے ٹیلی فونک گفتگو میں اہم اقتصادی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں روسی ایندھن کی ممکنہ فراہمی بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے جمعے کو گفتگو کے بعد کہا تھا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کو فوری طور پر ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ اگلے ماہ ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ فراہمی سے قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کا امکان کم ہے۔ اس ٹیلی فونک رابطے سے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے، تاہم تین فریقی مذاکرات کی بحالی کے وقت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔