Thursday, October 15

عالمی بھوک انڈیکس 2026: پاکستان جنوبی ایشیا میں دوسرے بدترین درجے پر

Pakistan Ranks Second-Worst in South Asia on Global Hunger Index 2026

اسلام آباد، 15 اکتوبر 2026 (غفران): عالمی بھوک انڈیکس 2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھوک کی صورتحال کے حوالے سے افغانستان کے بعد دوسرے بدترین درجے پر ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 16.1 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر 33.6 فیصد بچوں کی نشوونما متاثر ہے اور ان کا قد عمر کے لحاظ سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے عالمی بھوک انڈیکس میں 25.5 اسکور حاصل کیا، جو ملک میں بھوک کی سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں افغانستان کا اسکور 28.6، جنوبی ایشیا کا اوسط 23.5 اور عالمی اوسط 18.1 رہا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 9.8 فیصد بچے کم وزن کے باعث شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے بچوں کی اموات کی شرح 5.6 فیصد ہے۔ تاہم، طویل مدتی جائزے کے مطابق پاکستان کے بھوک انڈیکس میں بہتری آئی ہے اور اس کا اسکور سال 2000 میں 36.2 سے کم ہو کر 2026 میں 25.5 رہ گیا ہے۔ عالمی بھوک انڈیکس کا تعین چار بنیادی اشاریوں، یعنی غذائی قلت، بچوں کی عمر کے لحاظ سے کم قد، قد کے لحاظ سے کم وزن اور بچوں کی اموات کی شرح کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ شرح 7.1 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ مہنگائی میں ممکنہ اضافے سے کم آمدنی والے اور معاشی طور پر کمزور گھرانوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔