
اسلام آباد، 8 نومبر 2026 (غفران): پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے سری لنکا کے خلاف آئندہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹیم کے انتخاب کا حتمی اختیار ان کے پاس نہیں بلکہ سلیکٹرز اور کوچنگ اسٹاف کے پاس ہے۔ راولپنڈی میں پری سیریز پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ ان کی بنیادی ذمہ داری دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنا، انہیں تیار کرنا اور میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انگلینڈ کے دورے سے واپسی کے بعد ٹیم کی صورتحال سب کے سامنے تھی، جس کے بعد سلیکٹرز اور کوچ نے باہمی مشاورت سے اسکواڈ تشکیل دیا اور انہیں 15 کھلاڑی دیے گئے۔ ان کے مطابق اب ان کی توجہ ان کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی حاصل کرنے اور انہیں مقابلے کے لیے تیار کرنے پر ہے۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے ابتدائی طور پر 24 اکتوبر کو 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں ٹیم میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ ٹاپ آرڈر بلے باز عبداللہ فضل کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بابر اعظم نے واضح کیا کہ سلیکشن کے فیصلے سلیکٹرز کی ذمہ داری ہیں، تاہم جہاں ان کی رائے درکار ہوتی ہے وہ کوچ اور سلیکٹرز کے ساتھ مشاورت میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سائیکل میں تقریباً مقابلے سے باہر ہوچکا ہے، اس لیے اب ٹیم کی توجہ اگلے سائیکل کی تیاری اور نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے پر مرکوز ہے۔ کپتان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کا مناسب امتزاج تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے کھلاڑیوں کی شمولیت سے ٹیم میں نئی توانائی اور مثبت سوچ پیدا ہوگی۔ بابر اعظم نے پاکستان کی گزشتہ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا اسے پیچھے چھوڑ کر اس سے سبق سیکھنے اور آئندہ بہتر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کا منصوبہ مثبت ہے اور تمام کھلاڑی مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ 32 سالہ کپتان نے نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی میں سینئر کرکٹرز کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیریز یا میچ میں کامیابی کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت سے ایک نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں میں صلاحیت اور اعتماد موجود ہے، جبکہ سینئر کھلاڑی دباؤ کی صورتحال میں انہیں اپنے تجربات سے فائدہ پہنچانے اور بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔ بابر اعظم نے امید ظاہر کی کہ تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا امتزاج سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی بہتر کارکردگی کا باعث بنے گا۔