Thursday, October 15

جنوبی کوریا کا انتباہ، شرائط میں بار بار تبدیلی سے امریکہ سے جنگی کمان کی منتقلی ناممکن ہوسکتی ہے

South Korea Warns Changing Requirements Could Delay Wartime Command Transfer from US

سیئول، 15 اکتوبر 2026 (غفران): جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ سے جنگ کے دوران فوجی آپریشنز کی کمان جنوبی کوریا کو منتقل کرنے کے لیے شرائط میں بار بار تبدیلی سے یہ عمل ناممکن ہوسکتا ہے۔ جمعرات کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان جونگ بِٹ نا نے ذاتی حیثیت میں کہا کہ اگر شرائط اور اہداف مسلسل تبدیل ہوتے رہے تو جنگی آپریشنز کا اختیار کبھی منتقل نہیں ہوسکے گا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور وزارت دفاع کا باضابطہ مؤقف نہیں۔ ان کے مطابق، سیئول اور واشنگٹن باہمی طور پر طے شدہ شرائط پر مبنی منتقلی کے منصوبے کے تحت قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بیان سے قبل امریکی افواج کوریا کے کمانڈر جنرل زیویئر برنسن نے کہا تھا کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال اور فوجی آپریشنز کے منصوبوں میں تبدیلیوں کے باعث منتقلی کے لیے نئے معیارات سامنے آئے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برنسن نے شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات کو بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے جنگی کمان جنوبی کوریا کو منتقل کرنے کی حمایت کی، تاہم زور دیا کہ طے شدہ شرائط کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور ضروری فوجی صلاحیتوں کا ہونا بھی لازمی ہے۔ جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق، سیئول اس منتقلی کے لیے 2028 کو ہدفی سال قرار دے رہا ہے، جبکہ جنرل برنسن نے اپریل میں امریکی کانگریس کی سماعت کے دوران بتایا تھا کہ امریکی فوج نے ایک ایسا روڈ میپ پیش کیا ہے جس کے تحت 2029 کے اوائل تک ضروری شرائط پوری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک جنوبی کوریا ابھی تک مکمل آپریشنل صلاحیت کی تصدیق کا مرحلہ مکمل نہیں کرسکا، جو منتقلی کے تین مراحل میں سے دوسرا مرحلہ ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی پانچ سالہ صدارتی مدت کے اختتام، یعنی 2030 سے پہلے جنگی کمان کی منتقلی مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ جنوبی کوریا نے 1994 میں امن کے زمانے میں فوجی آپریشنز کا اختیار دوبارہ حاصل کرلیا تھا، تاہم جنگ کی صورت میں اتحادی افواج کی کمان اب بھی امریکہ کی قیادت میں قائم مشترکہ افواج کی کمان کے پاس ہے۔ شمالی کوریا سے متعلق مسلسل سکیورٹی خدشات کے باعث جنگی کمان کی منتقلی جنوبی کوریا کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی طویل عرصے سے اہم دفاعی ترجیح رہی ہے۔