Tuesday, November 3

یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ازبکستان کی تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی

UNESCO Executive Board unanimously approves Uzbekistan’s initiative to protect cultural heritage

اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (نوشین): یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ نے عالمگیریت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ازبکستان کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ یہ فیصلہ پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس اقدام کی تجویز ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے گزشتہ سال 30 اکتوبر کو سمرقند میں یونیسکو جنرل کانفرنس کے 43ویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر پیش کی تھی۔ ازبکستان کے سفارت خانے کی جانب سے اسلام آباد میں جاری بیان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، تیز رفتار شہری ترقی اور سماجی و معاشی تبدیلیوں جیسے جدید چیلنجز سے مادی اور غیر مادی ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت یونیسکو کے رکن ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور سائنسی ماہرین کے درمیان تعاون بڑھانے، خطرات کی روک تھام اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور سائنسی معلومات و بہترین تجربات کے تبادلے کو وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت یونیسکو نے ازبکستان کی جانب سے 2027 میں تاریخی شہر خیوا میں ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم منعقد کرنے کی تجویز بھی منظور کرلی ہے، جو یونیسکو کے تعاون سے منعقد ہوگا۔ سمپوزیم میں مختلف ممالک کے ماہرین، محققین اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے اور تاریخی مقامات کو خطرات سے محفوظ بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، روایتی علم کے تحفظ اور ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس کے بعد ثقافتی ورثے کے تحفظ اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔ ازبکستان کی اس تجویز کو پاکستان سمیت یونیسکو کے 54 رکن ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جن میں چین، اسپین، یونان، پرتگال، ترکیہ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور آذربائیجان بھی شامل ہیں۔ رکن ممالک نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمگیریت سے پیدا ہونے والے خطرات دنیا کے تمام ممالک کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے لیے مشترکہ بین الاقوامی کوششیں ضروری ہیں۔ تاریخی شاہراہ ریشم کے اہم ثقافتی مرکز خیوا میں 2027 میں ہونے والا یہ سمپوزیم ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور عملی اقدامات کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گا۔