Thursday, August 6

یومِ استحصال کشمیر کی تقریب، نیویارک میں مقررین کا سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

نیویارک، 6 اگست 2026 (غفران): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے کے اشتراک سے یومِ استحصال کشمیر کی ساتویں برسی کے موقع پر چانسری بلڈنگ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق انہیں حقِ خودارادیت دلانے کے عالمی مطالبے کا اعادہ کرنا تھا۔ تقریب کا آغاز نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ تقریب سے کشمیر اویئرنیس فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی، محقق اور تجزیہ کار شہال کھوسو، کشمیری رہنما تاج خان، سینئر کشمیری رہنما سردار سوار خان اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتا رہا ہے اور بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے لانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات نے مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں پر محیط جبر و استبداد کو مزید شدت دی، تاہم اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت مسئلہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت آج بھی برقرار ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ، دیگر کثیرالجہتی فورمز اور مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ کشمیری عوام کی مشکلات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مرکوز رکھی ہے تاکہ کشمیریوں کی آواز کبھی دب نہ سکے۔ انہوں نے اس جدوجہد کو پاکستان کی قومی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی کی کامیاب تحریکوں کے لیے حکمت عملی، صبر، بین الاقوامی قانونی جواز، تسلسل اور مستقل حمایت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مشن مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر عالمی ایجنڈے پر نمایاں رہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے اپنے مؤقف کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر استوار رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کی قانونی بنیاد کو محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 8 اگست 2019 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی واضح کیا تھا کہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کا مؤقف سلامتی کونسل کی قراردادوں اور منشور کے مطابق برقرار ہے، جبکہ 5 اگست کو سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بھی ان قراردادوں کی مسلسل اہمیت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، رکن ممالک، بین الاقوامی میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے پاکستان کا مستقل مشن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کرنے، تنازعے کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے مطالبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ افتتاحی خطاب میں قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات، مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور سیاسی جبر کی مذمت کی، جبکہ پاکستانی اور کشمیری برادری کی مسئلہ کشمیر کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں، اراضی پر قبضے کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم سید علی گیلانی کی کشمیر کاز کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی سطح پر معتبر شواہد فراہم کرتی ہیں اور احتساب کی ضرورت کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ ان کے مطابق بھارت تقریباً 47 لاکھ ڈومیسائل سرٹیفکیٹس غیر کشمیریوں کو جاری کرکے اور وسیع پیمانے پر اراضی حاصل کرکے مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ محقق اور تجزیہ کار شہال کھوسو نے کہا کہ اپنی عالمی اہمیت کے باوجود مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی علمی اور پالیسی مباحث میں وہ مقام حاصل نہیں جو اسے ملنا چاہیے۔ انہوں نے کشمیر اسٹڈیز، تحقیقی منصوبوں اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس مسئلے پر تحقیق پر مبنی مؤثر مؤقف دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ کشمیری رہنماؤں تاج خان اور سردار سوار خان نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی مستقل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو سراہتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ تقریب کے دوران سیکنڈ سیکرٹری علینہ مجید، سیکنڈ سیکرٹری محمد راشد اور فرسٹ سیکرٹری سرفراز گوہر نے بالترتیب صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر جاری کردہ خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جبکہ تقریب کی نظامت کونسلر صائمہ سلیم نے کی۔