
اسلام آباد، 29 اگست 2026 (نوشین): پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی جانب سے ڈانس کی ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض صارفین نے ملک میں پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات کے تناظر میں ویڈیو شیئر کرنے کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ہانیہ عامر نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرٹ پہنے، کھلی چھت والی گاڑی میں کافی پیتی اور موسیقی پر رقص کرتی نظر آئیں۔ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور اسے مداحوں کے ساتھ ساتھ ناقدین کی جانب سے بھی مختلف ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین کے ایک حلقے نے ایسے وقت میں تفریحی نوعیت کی ویڈیو شیئر کرنے پر سوال اٹھایا جب حالیہ المناک واقعات سے متاثرہ خاندان سوگوار ہیں۔ بعض ناقدین نے اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میں پیش آنے والی آتشزدگی کا حوالہ دیا، جہاں اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ہانیہ عامر پاکستان کی مقبول ترین شوبز شخصیات میں شامل ہیں اور ان کے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں فالوورز ہیں، اس لیے وہ اپنے پلیٹ فارم کو انسانی اور سماجی مسائل اجاگر کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہیں۔ تاہم، یہ تنقید سوشل میڈیا صارفین کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اداکارہ کسی مخصوص واقعے پر بیان دینے یا ردعمل ظاہر کرنے کی پابند تھیں۔ معروف شخصیات کو اکثر سوشل میڈیا پر اپنے مواد اور مختلف واقعات پر اظہارِ خیال کے حوالے سے مختلف توقعات کا سامنا رہتا ہے۔ کچھ صارفین نے ہری پور میں چار سالہ بچی آیت نور کے کیس کا بھی حوالہ دیا اور ہانیہ عامر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو اجاگر کریں۔ کیس سے متعلق رپورٹس کے بعد عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ بچی کے مبینہ جنسی استحصال اور قتل سے متعلق الزامات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ الزامات اور مجرمانہ ذمہ داری سے متعلق حتمی فیصلہ تحقیقاتی عمل اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ ہانیہ عامر کی ویڈیو پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ کیا معروف شخصیات کو اپنے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہر بڑے سانحے یا سماجی مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ فنکاروں اور دیگر عوامی شخصیات کو ہر المناک واقعے پر لازماً عوامی ردعمل دینے کا پابند سمجھا جانا چاہیے یا انہیں اپنی ذاتی ترجیحات کے مطابق سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔