Wednesday, August 12

پی ٹی آئی بانی کے مبینہ تنہائی میں رکھے جانے کے خلاف وکیل نے تحریری دلائل جمع کرا دیے

 

اسلام آباد، 11 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھے جانے سے متعلق کیس میں تحریری دلائل عدالت میں جمع کرا دیے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل اسسٹنٹ، لوکل کمیشن یا امیکس کیوری مقرر کیا جائے۔تحریری دلائل میں استدعا کی گئی کہ کمیشن عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرے، جس کے بعد عدالت اس کی جائزہ رپورٹ طلب کرے۔ وکیل نے دونوں قیدیوں کو عدالت میں طلب کرکے مبینہ تنہائی میں رکھے جانے سے متعلق ان کے بیانات قلمبند کرنے کی بھی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیانات ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔سلمان صفدر نے ایک ماہر، ریاستی نمائندے اور درخواست گزاروں کے نمائندوں پر مشتمل بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی دی۔ ان کے مطابق بورڈ سینٹرل جیل اڈیالہ کا دورہ کرکے متعلقہ سہولیات اور ریکارڈ کا معائنہ کرے اور قیدیوں کو تنہائی میں رکھنے اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق آزادانہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

تحریری دلائل میں عمران خان کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے قیدیوں کے لیے فراہم کردہ سہولت کی طرز پر ویڈیو لنک کے ذریعے رابطے کی سہولت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ وکیل نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کتابیں اور ٹیلی ویژن کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا بھی کی۔سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم 300 سے زائد مقدمات میں ان کی نمائندگی کر رہی ہے، اس لیے جیل قوانین کے مطابق وکلا کو بغیر کسی رکاوٹ کے ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔تحریری دلائل میں قیدیوں کی اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے ہفتہ وار ملاقاتوں کو بھی جیل قوانین کے مطابق یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ وکیل نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو واضح ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی تاکہ ملاقاتوں میں غیر ضروری پابندیاں یا رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔وکیل نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹس اور مکمل طبی ریکارڈ جاری کرنے اور یہ ریکارڈ عدالت میں بھی پیش کرنے کی استدعا کی۔ تحریری دلائل کے مطابق اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے مبینہ طور پر عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے نامکمل رپورٹ جمع کرائی، جو صرف ڈیڑھ صفحے پر مشتمل تھی اور کیس میں اٹھائے گئے اہم خدشات اور معاملات کا احاطہ نہیں کرتی۔سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نقل و حرکت کو آزادانہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دونوں کو اپنے مقررہ علاقوں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری دلائل 19 صفحات پر مشتمل ہیں۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس میں تحریری دلائل طلب کیے تھے۔