Saturday, August 29

پنجاب اور ہواوے کا مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ صوبہ بنانے کے لیے تعاون پر اتفاق

Punjab, Huawei Join Forces to Build AI-Powered Province

گوئیژو، چین27, اگست 2026 (غفران): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دورۂ چین کے دوران ہواوے کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم تزویراتی مذاکرات کیے، جن میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت ، کلاؤڈ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، انسانی وسائل کی ترقی اور اسمارٹ عوامی خدمات کے فروغ کے لیے جامع روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی دار، صوبائی وزراء اور حکومت پنجاب کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پنجاب کو “جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ صوبہ” بنانے کے مشترکہ وژن پر غور کیا گیا۔ دونوں جانب سے انفرادی ٹیکنالوجی منصوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے صوبے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا جامع نظام تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا، جو معاشی ترقی، جدت، روزگار اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو۔ مذاکرات میں پاکستان میں محفوظ اور خودمختار مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹر کی صلاحیتوں میں اضافے اور حکومتی اداروں، عوامی خدمات اور اہم معاشی شعبوں میں مرحلہ وار  مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ہواوے نے پنجاب کے لیے چار سطحی مصنوعی ذہانت ایکو سسٹم کی تجویز پیش کی، جس میں بنیادی انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت کی استعداد کار میں اضافہ، اوپن اور کمرشل AI ماڈلز اور پنجاب کی حکومتی و معاشی ضروریات کے مطابق عملی AI ایپلی کیشنز شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے ساتھ ہواوے کے مسلسل تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے صوبے میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ حکمرانی کا نظام تشکیل دینے کے لیے کمپنی کی آمادگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے حکومتی کارکردگی، شفافیت، فیصلہ سازی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی عوامی خدمات کے معیار اور رسائی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مجوزہ تعاون کے تحت کلاؤڈ انفراسٹرکچر، کمپیوٹنگ وسائل، متعلقہ ڈیٹا اور خصوصی مصنوعی ذہانت ماڈلز کو یکجا کرکے مقامی ضروریات کے مطابق مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بھی تیار کی جائیں گی۔ اس کا مقصد ایسے مصنوعی ذہانت حل تیار کرنا ہے جو پنجاب کی مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور انہیں مرحلہ وار مختلف سرکاری محکموں اور اہم معاشی شعبوں تک وسعت دی جا سکے۔ پنجاب کی مصنوعی ذہانت حکمت عملی میں ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی تک جامع رسائی کو بھی اہم ستون قرار دیا گیا۔ دونوں جانب سے سرکاری افسران، صنعت، تعلیمی اداروں اور مقامی آبادی میںمصنوعی ذہانت مہارتوں کے فروغ کے لیے تربیتی اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز پر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔