
اقوام متحدہ، 25 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے روس اور یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اور مکمل طور پر جنگی کارروائیاں روکیں، سفارت کاری کی طرف واپس آئیں اور بامعنی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام قائم کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کی بگڑتی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے دونوں جانب سے حملوں میں بڑھتی ہوئی شدت اور بڑے پیمانے پر ہونے والی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان مختلف محاذوں پر جاری حملوں کے بڑھتے ہوئے پیمانے اور شدت کی مذمت کرتا ہے، جن کے باعث متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے توانائی اور خوراک کی فراہمی سے متعلق اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں سے پہلے ہی نازک عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور اس کے اثرات جنگی علاقے سے باہر بھی محسوس ہوں گے۔ پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ شہریوں، انسانی امدادی کارکنوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بنیادی ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں کشیدگی میں مزید اضافے، انسانی مشکلات میں شدت اور پائیدار امن کے امکانات کو کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ سفیر عاصم احمد نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ضروری ہیں اور فوجی حل کی تلاش سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دیرپا امن کا واحد قابل عمل راستہ ایسا باہمی طور پر قابل قبول پرامن تصفیہ ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصول، تمام فریقوں کے جائز سکیورٹی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ ہو۔
اقوام متحدہ کی سیاسی اور امن سازی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ جاری رہنے کے ساتھ شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جولائی میں یوکرین میں مئی 2022 کے بعد کسی بھی مہینے کے مقابلے میں سب سے زیادہ شہری ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی اپریل 2022 کے بعد بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ روسی فورسز نے یوکرینی شہروں اور شہری تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں کیف، خارکیف، کریوی ریہ اور میکولائیف پر حالیہ حملے بھی شامل ہیں۔ قوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق فروری 2022 سے اب تک 16,874 شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے، جن میں 820 بچے شامل ہیں، جبکہ 51 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ روزمیری ڈی کارلو نے روس میں یوکرینی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف میں بندرگاہوں اور بحری نقل و حمل کے انفراسٹرکچر پر حملے عالمی تجارت اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے جاری تشدد اور کشیدگی کے چکر کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے تمام سفارتی کوششوں پر زور دیا تاکہ فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کی راہ ہموار ہو اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق منصفانہ، پائیدار اور جامع امن قائم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے انڈر سیکرٹری جنرل اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران یوکرین میں شہری ہلاکتوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔ یوکرین کے دورے کے دوران فلیچر نے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ ڈرون جنگ کس طرح شہری زندگی کو تباہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق 2026 میں فرسٹ پرسن ویو ڈرون حملوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ محاذ کے قریب ایک اسپتال میں زیر علاج شہری مریضوں میں سے تقریباً 70 فیصد دھماکوں سے ہونے والے زخموں کا علاج کرا رہے تھے، جن میں زیادہ تر زخم ڈرون حملوں کے نتیجے میں آئے تھے۔ فلیچر نے خبردار کیا کہ انسانی امدادی کارکن بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنوری سے جولائی کے دوران 10 امدادی کارکن ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے، جبکہ کم از کم 20 گودام تباہ کیے گئے۔ اس کے باوجود انسانی امدادی اداروں نے 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 30 لاکھ سے زائد افراد تک امداد پہنچائی۔ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا دفاع، امدادی کارروائیوں کا تحفظ اور مشکل موسم سرما کے لیے تیاری یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو تحفظ، امداد اور سب سے بڑھ کر جنگ کے خاتمے کی ضرورت ہے۔