
واشنگٹن، 6 نومبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید تباہی کا سامنا کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دائرہ بڑھانے پر غور کر سکتا ہے اور اس حوالے سے اگلا فیصلہ جلد سامنے آ جائے گا۔ جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے باقی ماندہ حصے کو تباہ نہیں کرنا چاہتے، تاہم مستقبل میں ایران سے کسی ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مزید کارروائی ضروری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے مستقبل میں دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ٹرمپ نے اندازہ ظاہر کیا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم کے بعد ایران کو دوبارہ تعمیر نو کے لیے 25 سال درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ تنازع تاحال حل نہیں ہو سکا۔ ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق تہران کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو تجاویز پہنچانے کی اطلاعات پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کی منظوری کے بغیر کوئی اقدام نہیں کر رہا۔ دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے قریب جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم استعمال کرتے ہوئے دو امریکی ایم کیو ایم 170 جاسوس ڈرونز مار گرائے ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ان واقعات کے بعد ایران کی جانب سے تنازع کے دوران گرائے جانے والے ایم کیو ایم 170 ڈرونز کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ آئی آر جی سی نے اس حوالے سے دو الگ الگ بیانات جاری کیے، تاہم واقعات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تہران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے علاقے میں اسی نوعیت کے چار امریکی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران ٹرمپ کے تازہ بیان اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈرونز گرانے کے دعووں نے خطے کی صورتحال کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔