نیویارک، 28 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): امریکا میں پرائمری انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے نومبر میں ہونے والے عام انتخابات کی تیاری تیز کر دی ہے، جبکہ دونوں جماعتوں نے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف اور واضح انتخابی بیانیے اختیار کر لیے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی توجہ بتدریج معیشت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں، خصوصاً پٹرول، گروسری اور صحت کی سہولیات کے اخراجات پر مرکوز ہو رہی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدواروں کا کہنا ہے کہ سخت مقابلے والے حلقوں میں ووٹرز سیاسی انتہاپسندی کے بجائے مہنگائی اور گھریلو اخراجات کے مسائل کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کو انتخابی بحث کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ڈیموکریٹس میں جمہوری سوشلزم کے بڑھتے اثر و رسوخ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ریپبلکن حکمتِ عملی سازوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ انتخابی بیانیہ ہر حلقے میں مؤثر ثابت نہیں ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور ایران میں جنگ کے معاشی اثرات ووٹرز کے لیے اہم تشویش بنتے جا رہے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کو معاشی مسائل پر واضح مؤقف اختیار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ سابق صدر جو بائیڈن کی معاشی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے وابستہ یا اس کی حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی بھی کئی اہم انتخابی حلقوں میں ایک مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ رواں پرائمری سیزن میں کم از کم آٹھ ڈی ایس اے ارکان یا تنظیم کی حمایت یافتہ امیدواروں نے کانگریس کے لیے ڈیموکریٹک نامزدگیاں حاصل کی ہیں۔ تاہم، مختلف سروے ظاہر کرتے ہیں کہ بیشتر ووٹرز کے لیے معاشی حالات اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں زیادہ اہم عوامل ہیں، جبکہ بہت کم ووٹرز سوشلزم یا کمیونزم مخالف جذبات کو اپنے ووٹ کے لیے بنیادی ترجیح قرار دیتے ہیں۔ ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اور کارکردگی بھی ان کی جماعت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ حالیہ عوامی رائے کے جائزوں کے مطابق تقریباً ایک تہائی امریکی بالغ افراد ہی صدر کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ایسے میں ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کی حمایت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے حلقوں میں اپنی کارکردگی اور مستقبل کے وژن کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دونوں جماعتوں کے نومبر کے انتخابات کی جانب بڑھنے کے ساتھ معیشت، سیاسی نظریات، مہنگائی، زندگی گزارنے کی لاگت اور ٹرمپ انتظامیہ کی عوامی مقبولیت اہم انتخابی عوامل بننے کا امکان ہے، جو یہ طے کرنے میں کردار ادا کریں گے کہ آیا ریپبلکنز آئندہ دو برس تک واشنگٹن میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔
