
اسلام آباد، 30 ستمبر 2026 (غفران): معروف فنکارہ موبینہ زبیری کی سولو نمائش ’’ٹیکسچرز آف ایموشنز‘‘ گیلری 6 میں شروع ہوگئی، جس میں ان کے حالیہ اور منتخب 27 فن پارے پیش کیے گئے ہیں۔ نمائش میں انسانی جذبات کے مختلف پہلوؤں کو مجسم اور تجریدی فن کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے۔ نمائش میں موبینہ زبیری کے فن کے دو اہم پہلو نمایاں ہیں، جن میں خواتین کی جذباتی عکاسی اور تجریدی فن پارے شامل ہیں۔ ان کے مجسم فن پاروں میں خواتین کو روزمرہ زندگی کے ایسے لمحات میں دکھایا گیا ہے جو جذباتی طور پر گہرے اثرات رکھتے ہیں، جہاں خود احتسابی، خاموشی اور انتظار کی کیفیت کو حرکات، انداز، چہرے کے تاثرات اور خدوخال کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ فنکارہ نے خواتین کے روایتی حسن کی عکاسی کے بجائے ان کی یادوں، خیالات، خواہشات اور ذاتی تجربات کی اندرونی دنیا کو اجاگر کرنے پر توجہ دی ہے۔ موبینہ زبیری کی منفرد ڈرائنگ تکنیک اور رنگوں و سطح کے حساس استعمال نے ان کے فن پاروں میں جذباتی گہرائی پیدا کی ہے اور بظاہر مختصر لمحات کو دیرپا بصری تاثر میں تبدیل کردیا ہے۔ ان کے تجریدی فن پاروں میں شکل، رنگ، خلا، ساخت اور حرکت کو جذبات اور کیفیات کے اظہار کیلئے استعمال کیا گیا ہے، جبکہ نیپال کے ہاتھ سے تیار کردہ کاغذ کی منفرد سطح بھی کئی فن پاروں میں بصری اور حسی تجربے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ تجریدی فن پارے ناظرین کو کسی ایک مخصوص کہانی تک محدود نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنی یادوں، وابستگیوں اور تخیل کی بنیاد پر فن پاروں کو سمجھنے اور مختلف انداز میں محسوس کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ موبینہ زبیری کا فنی سفر 1970 کی دہائی میں شروع ہوا اور کئی دہائیوں کے دوران مختلف موضوعات، اسالیب اور تکنیکوں کے ذریعے ارتقا پذیر ہوا، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں خواتین کی عکاسی اور تجریدی فن ان کے تخلیقی اظہار کے اہم عناصر بن گئے ہیں۔ ’’ٹیکسچرز آف ایموشنز‘‘ میں ان کے فن کے دونوں پہلوؤں کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی جذبات ان کے فنکارانہ عمل کا بنیادی حصہ ہیں، خواہ ان کا اظہار انسانی پیکر کے ذریعے ہو یا رنگ، شکل اور ساخت کے ذریعے۔ نمائش میں شامل 27 فن پارے ناظرین کو ظاہری منظر سے آگے بڑھ کر ان لطیف جذبات کو محسوس کرنے کی دعوت دیتے ہیں جو فن پارے دیکھنے کے طویل عرصے بعد بھی ذہن پر اثر چھوڑ سکتے ہیں۔