
رام اللہ، 11 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): فلسطینی صدر محمود عباس نے قانون ساز انتخابات ملتوی کرتے ہوئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات 11 ستمبر 2027 کو ایک ہی دن کرانے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق قانون ساز انتخابات اس سے قبل رواں سال 28 نومبر کو ہونا تھے، جبکہ صدارتی انتخابات 2027 کے اوائل میں متوقع تھے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق صدارتی فرمان میں محمود عباس نے انتخابات میں تاخیر کی وجہ اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کے انعقاد کے لیے مناسب سیاسی اور سیکیورٹی حالات پیدا کرنا ضروری ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے انتخابات کی تیاریوں کے لیے فلسطینی انتخابی حکام کو مشرقی یروشلم اور غزہ تک رسائی دینے سے انکار کردیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے انتخابات ملتوی کرنے کے منصوبے پر محمود عباس کو بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کا الزام دیا ہے۔ انتخابات کا انعقاد ان اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مطالبہ یورپی یونین سمیت عالمی برادری کرتی رہی ہے۔ فلسطینی علاقوں میں آخری قانون ساز انتخابات 2006 میں ہوئے تھے، جن میں حماس نے فلسطینی اتھارٹی کی غالب جماعت فتح کو شکست دی تھی۔ بعد ازاں دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اور جھڑپوں کے نتیجے میں حماس نے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ مغربی کنارے میں فتح کا اثر و رسوخ برقرار رہا، جس سے فلسطینی علاقوں میں سیاسی اور جغرافیائی تقسیم مزید گہری ہوگئی۔ فلسطینی قانون ساز کونسل کا اجلاس 2007 کے بعد سے منعقد نہیں ہوا۔ محمود عباس نے آخری صدارتی انتخابات 2005 میں جیتے تھے اور ان کی مدت صدارت 2009 میں ختم ہونا تھی، تاہم وہ اس کے بعد سے صدارتی فرامین کے ذریعے حکومت چلاتے آرہے ہیں۔ انتخابات کے التوا نے فلسطینی علاقوں میں جمہوری عمل کی بحالی اور سیاسی مفاہمت کے امکانات پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔