
اسلام آباد، 12 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): وفاقی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے وفاقی کابینہ کی سفارشات کی منظوری کے بعد آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق آئین کی مذکورہ دفعات ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق ہیں۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس میں شرکاء کو صوبے کی سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کابینہ نے صورت حال کا جائزہ لیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی مبینہ دانستہ لاتعلقی پر تشویش کا اظہار کیا۔ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر کابینہ ارکان نے تجویز دی کہ وزیراعظم صدر مملکت کو آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیں۔ اعلان کے بعد پشاور کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش اور خلل کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن شعبے کے ذرائع کے مطابق بعض شہروں کے مخصوص علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور ڈیٹا سروسز کی رفتار کم یا انہیں عارضی طور پر بند کیا گیا۔ تاہم پورے صوبے میں موبائل ڈیٹا یا انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی اطلاع نہیں ملی۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے بھی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ رابطے میں نمایاں خلل کی نشاندہی کی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی اجازت دے دی ہے۔ پشاور کے مختلف مقامات پر سڑکیں بند کرنے کے لیے کنٹینرز رکھے گئے، جبکہ نئی سکیورٹی اور انتظامی حکمت عملی پر عمل درآمد کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔